کیٹیگری: مضامین

امام مہدی سیدنا گوھر شاہی کے مطابق جشن شاہی اُن لوگوں کے لئے سب سے اہم دن ہے جو سرکار گوھر شاہی سے پیار کرتے ہیں اور اُن کو مانتے ہیں کیونکہ اس دن سرکار کو ہر قسم کا مرتبہ عطا ہوا ۔ سرکار گوھر شاہی کے ماننے والوں کے لئے جشن شاہی بہت اہم دن ہے اور پوری دنیا کے لئے بھی کیونکہ یہ پندرہ رمضان کا دن تھا جب سرکار سیدنا گوھر شاہی امام مہدی کو عالم ِ بالا میں تاج ِ سلطانی پہنایا گیا ۔
بد قسمتی سے انجمن سرفروشان اسلام (سابقہ تنظیم ) کے لوگ اس دن کی اہمیت کو جاننے سے قاصر ہیں ۔ وہ اس دن کو دوسرے دنوں کی طرح مناتے ہیں کہ اس دن کا تعلق اُن کے مرشد سے ہے لیکن دین الہی کے مطابق یہ دن بہت اہم ہے اور اس دن مہدی کا مرتبہ ارشاد ہوا ۔ اپنی کتاب مقدس دین الہی میں سیدنا گوھر شاہی نے خود اپنے قلم مبارک سے درج فرمایا کہ “ہر مرتبے اور معراج کا تعلق پندرہ رمضان سے ہے”۔سیدنا گوھر شاہی کا مرتبہ ، مہدی ہے اس مرتبے کا تعلق بھی اسی دن سے ہے۔میں (نمائندہ مہدی یونس الگوھر) تمام ساتھیوں کو “جشن شاہی ،یوم مہدی ” کے عظیم دائمی پر مسرت دن کی مبارک باد دیتا ہوں ۔

“یہ دن آمدِ مہدی کا دن ہے ۔ آج سے انتالیس سال پہلے (15 رمضان 1977 ) سرکار گوھر شاہی کو مہدی کا مرتبہ عطا ہوا ۔ جو انتالیس سال پہلے رحمت کا نزول اورکرم کی بارش تھی وہ ہر پندرہ رمضان کو ہوتی رہے گی کیونکہ یہ زندہ دن ہے ”

انسانیت بہت سے ادیان ، فرقوں اور گروہوں میں بٹ چکی تھی ۔ روحانیت میں ہر جگہہ درجات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہ دنیا بنائی گئی اور تباہ ہوئی ۔ اس دنیا نے تقریباً سو دفعہ مکمل خاتمہ دیکھا ہو گا ۔ اس دنیا میں چودہ ہزار آدم آئے ، اس کا مطلب ہے کہ انسانیت کی چودہ ہزار مثالیں ہیں ۔ یہ دنیا مختلف مقامات پر چودہ ہزار دفعہ بنائی گئی ۔ تمام آدم مختلف سیاروں پر بنائے گئے ۔ جو مخلوق مریخ میں رہتی ہے وہاں کا آدم مریخ میں بنایا گیا تھا۔ مشتری کا آدم ، عطارد کا آدم ، سورج کا آدم تھا، چاند کا بھی آدم تھا ۔ ہر دور میں ساتھ مختلف آدم ہوتے ہیں ۔ تمام آدموں نے صرف ایک قسم کا علم متعارف کروایا سوائے آخری آدم صفی اللہ کے، اور وہ علم اللہ کی عبادت اور نبیوں کی پیروی تھا۔ آخری دفعہ قلب والا علم ، ایسا علم جس سے رب تک رسائی ہو جاتی ہے ،جس سے رب سے تعلق قائم ہو جاتا ہے ، وہ علم آدم صفی اللہ کے ذریعے متعارف ہوا ۔ تمام سات جہانوں میں آدم آئے لیکن آدم صفی اللہ آسمانوں سے بھیجے گئے ،انہوں نے انسانیت کو دل والا علم سکھایا ۔ پہلے لوگ یہ جاننے سے قاصر رہے کہ یہ آدم بھی دوسرے آدموں کی طرح ہے ۔ لوگوں نے کہا یہ تو آسمانوں سے آئے ہیں ہو سکتا ہے کہ یہ اللہ کے بیٹے ہوں ۔ آدم صفی اللہ پہلے آدم تھے جن کو لوگوں نے اللہ کا بیٹا سمجھا تھا۔ پھر اعلی ٰ بنی بھیجے گئے جیسے ابراھیم علیہ السلام اللہ کے دوست جانے جاتے ہیں ، موسیٰ علیہ السلام ، اللہ سے باطنی تعلق کے لئے مشہور ہیں ، عیسی ٰ علیہ السلام اس لئے مشہور ہیں کہ وہ اُس عور ت کے بیٹے ہیں جس کو کسی مرد نے نہیں چھوا ۔ عیسیٰ کی آمد پر ایک دفعہ پھر انسانیت ششدر رہ گئی ۔ پھر محمد الرسول اللہ تشریف لے آئے۔ آپؐ کی آمد اپنے والد کی وفات کے دو سال بعد ہوئی۔ محمد ﷺ انسان نہیں ہیں وہ نور ہیں ۔ بی بی آمنہ سے کہا گیا کہ وہ اس راز کو راز ہی رکھیں لیکن اب یہ سب کچھ تاریخ بن چکا ہے ۔
آدم صفی اللہ جو علم لائے وہ لوگوں کو رب سے جوڑنے والا علم تھا ، محمد الرسول اللہ جو علم لائے اُس سے لوگ اللہ سے کلام کر سکتے تھے ۔ پھر لوگ انتظار میں تھے کہ اس کے بعد کونسا علم آتا ہے ۔محمد الر سول اللہ نے لوگوں کو جو علم دیا اُس کے مطابق اللہ کے سوا کچھ اور نہیں سوچ پائی ۔ لیکن انسانیت کو کلمہ سبقت کا انتظا رتھا ، کلمہ سبقت سے کل انسانیت کو واحد ہونا تھا جس کا قرآن میں ذکر اسطرح موجود ہے ؛

وَمَا کَانَ النَّاسُ إِلاَّ أُمَّۃً وَاحِدَۃً فَاخْتَلَفُواْ وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ فِیْمَا فِیْہِ یَخْتَلِفُونَ
سورۃ یونس آیت نمبر 19
ترجمہ : جمعیت الاسلام اتنے قبائل اور اتنی اقوام میں منقسم نہ ہوتی ساری انسانیت امت واحدہ ہوتی اگر مجھے کلمہ سبقت کا انتظار نہ ہوتا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کو بھی کلمہ سبقت کا انتظا ر تھا۔اگرلا الہ الا اللہ کلمہ سبقت ہے تو اللہ نے اپنے ہی اسم کا انتظار کیوں کیا؟ لا الہ الا اللہ کلمہ سبقت نہیں ہے ۔ جب انتظار کہا جاتا ہے تو انتظار کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ چیز تم سے دور ہے تم انتظار کر رہے ہو کہ وہ چیز قریب آ جائے ۔ قرآن مجید نے دو چیزیں کہیں

فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّـهِ فَانتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ
سورۃ یونس آیت نمبر 20
ترجمہ : کہہ دو کہ غیب تو صرف اللہ کے لئے ہے ،پس انتظار کرو اور میں بھی انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔

پہلے کہا کہ فَانتَظِرُوا “اللہ خود منتظر ہے ” پھر دوسری جگہ پر کہا إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے ، سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اُس کی نظر وقت اور جگہہ کی قیدی نہیں ہے ۔ اللہ نے کہا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ انتظار کرو اور میں بھی انتظار کر رہا ہوں ۔جب اللہ کسی چیز یا کسی کے لئے انتظار کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ وہ اللہ کی پہنچ سے دور ہے ۔
میرے دوستو ! جشن شاہی کا دن وہ دن ہے جب دنیا سے کلمہ سبقت کو متعارف کروایا گیا ۔ ہم کروڑوں سال پہلے پیدا ہو جاتے ،عیسی ٰ علیہ السلام ، موسی علیہ السلام ، ابراہیم علیہ السلام کے دور میں پیدا ہو سکتے تھے، پہلی صدی ، دوسری صدی ، چودویں صدی میں بھی پیدا ہو سکتے تھے لیکن ہم پندرویں صدی یعنی امام مہدی کے دور میں پیدا ہوئے ہیں ، یہ کوئی اتفاق نہیں ہے ، یہ پہلے سے ہی فیصلہ ہو چکا تھا کہ اس دور میں امام مہدی کی روحیں آئیں گی ۔

“آج جو کلمہ سبقت آ گیا ہے تو جو لوگ بھی کلمہ سبقت کے منتظر ہیں ، کلمہ سبقت کو مانتے ہیں ، اپنے ہاتھ اُٹھاؤ اور نمائندہ مہدی کی آواز سے آواز ملائیں ۔ تمھیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے بس امام مہدی کے نمائندے (یونس الگوھر)کے ساتھ لگ جاؤ، تمھیں امام مہدی کا ساتھ مل جائے گا”

یہ انٹرنیٹ کا دور ہے ، اس دور میں فیضان ِ امام مہدی انٹرنیٹ سے عام ہو رہا ہے ۔ نبیوں اور ولیوں کو اس وقت کا انتظار تھا جب یہ اعلان ہو کہ کلمہ سبقت آ گیا ہے ۔ تم خوش قسمت ہو کہ آج تم امام مہدی کے دور میں ہو ۔اب تم پر منحصر ہے کہ تم جہنم میں جانا چاہتے ہو یا اپنا نصیب چمکانا چاہتے ہو ۔ کلمہ سبقت کا مطلب عالم غیب کا کلمہ ہے ۔
یہ امام مہدی سرکار سیدنا گوھر شاہی کا انتہائی کرم ہے ، سرکار گوھر شاہی کی ہم پر انتہائی شفقت ہے کہ آج ہمیں کلمہ سبقت عطا ہو گیا ہے ۔امام مہدی گوھر شاہی چاہتے ہیں کہ تم عالم غیب میں داخل ہو جاؤ، عالم غیب میں جانے سے پہلے تمھیں انسانیت سے نکلنا پڑے گا کیونکہ عالم غیب اللہ کے لئے ہے ۔ سرکار سیدنا گوھر شاہی چاہیں تو ایک کو لے جائیں یا ایک کروڑ کو ، یہ آپ کی مرضی پر منحصر ہے ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہو تا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب تمھاری انسانی فطرت بدل جائے گی ۔
کوئی کیا ڈرائے گا اُن کو بھلا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو گوھر کی تیغ وثناء ہو گئے
بتائے جو یونس نے اغراض مخفی ۔۔۔۔۔مقاصد سبھی کے عیاں ہو گئے

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں