کیٹیگری: مضامین

کفر فی نفسہی کیا ہے؟

اِس وقت دنیا میں دینِ اِسلام سمیت جتنے بھی مذاہب یا دین ہمیں نظر آ رہے ہیں ان میں دین کے نام پر صرف رسم و رواج رہ گیا ہے۔ جو لوگ کلمہ سبقت اور دین الہی جو کہ اللہ کا دین ہے اُس کی حقانیت کو نہیں سمجھے انہوں نے جب اس کی بابت راز سنے توفی الفور کفر کے فتوے لگا دیئے ۔MFI یعنی مہدی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل لوگوں سے سوال کرتی ہے کے کیا ہم نے اللہ کی حقانیت کو جھٹلایا کیا ہم نے اُس کے بھیجے گئے انبیاء کا انکار کیا؟ کیونکہ ایم ایف آئی کے نزدیک اللہ کو جھٹلانا کفر ہے،اللہ کے بھیجے گئے ادیان کو جھٹلانا کفر ہے،اللہ کے حق کو جھٹلانا کفر ہے۔موجودہ دور کا اِسلام بہتر تہتر فرقوں میں بٹ چکا ہے اور ہر فرقہ دوسرے والوں کو نہ صرف اپنا جانی دشمن سمجھتا ہے بلکہ ببانگ دہل ان کوکافرو منافق بھی قرار دے رہا ہے، جو بریلوی ہیں وہ دیو بند اور وہابی کو گستاخ کہتے ہیں جو سنی ہیں وہ وہابی اور دیوبندی کو بدعتی کہتے ہیں، سوچنے کی بات ہے کہ جو کلمہ یہ پڑھتے ہیں اِس کلمے کے نور اور اسرار نے اِن کو یکجا کیوں نہیں کیا ؟سارے مسلمان آپس میں اپنے آپ کوہم مذہب ہم دین اور اُمتی سمجھتے ہیں ، کلمہ پڑھ لینے سے اِن کا دین کب قائم ہوا؟دین اختیار کرنے کے لیے سب سے پہلے کلمہ پڑھ کر مسلمان کیا جاتا ہے اب یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کےاللہ تعالیِ نےقرآن میں مسلمان کو مخاطب کیا ہے یا مومن کو؟؟

مومن کون ہیں اورمومن کیسے بنتے ہیں؟

قرآن میں تو کہیں بھی نہیں لکھا کےنماز مسلمان پرفرض ہے، قرآن میں کہیں یہ نہیں لکھا کے روزہ مسلمان پر فرض ہے ، دین اِسلام کا سب سے پہلا فرض کلمہ مبارک ہے اور اللہ کا ذکر ہے جب حضور ﷺ تشریف لائے اعلانِ نبوت کِیا تو کیا اِسلام کے پانچوں اراکین ایک ہی دن میں نازل ہوگئے تھے؟ نہیں ،حضور ﷺ کو ماننے والے تیرہ سال تک صرف ذکر کرتے تھے۔ایک موقعہ پر جب اعراب نے کہا ہم ایمان لائے تو اللہ نے قرآن میں مومن کی تعریف بیان کی اور حضورﷺپر آیت نازل کی

قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَکِن قُولُوا أَسْلَمْنَاوَلَمَّا یَدْخُلِ الْإِیْمَانُ فِیْ قُلُوبِکُم
(15) المائدہ
اے محمد ﷺ اِن (اعراب)سے کہہ دیجئے کے ابھی یہ کلمہ پڑھ کر اسلام لائے ہیں مومن تب بنیں گے جب کلمہ کا نور ان کے قلوب میں داخل ہوگا۔

کیا یہ کلمہ کا اثر ہے جو قرآن کی آیات کو توڑ موڑ کر دنیا میں دہشت گردی پھیلائی جا رہی ہے؟

اسلام کے بانی محمد رسول عربی نے تو فرمایا کے جس نے کسی ایک انسان کا قتل کیا گُویا اُس نے پوری انسانیت کا قتل کیا، بے گناہوں کو بم بلاسٹ میں اُڑا دینا ہرگز ہر گز اسلام کی تعلیمات نہیں ہیں۔ لفظ اسلام کے معنی ہی سلامتی کے ہیں ۔جس علاقے میں اسلام نازل ہوا وہ خطہ عربستان کہلاتا تھا، وہاں کے لوگ جنگجو اور لڑاکا تھے چھوٹی چھوٹی بات پر خون کی ندیاں بہا دیتے تھے، انکے قبائل کی جنگیں نسل در نسل چلتی تھی، اِس لئے اُس قوم کے مزاج اورضرورت کے مطابق ایسا دین بنا کر اتارا گیا جس کا زیادہ زور امن قائم کرنے پر تھا، لیکن اسلام کے نام پر امن کب قائم ہوا؟زبان سے کلمہ پڑھنے والے آج تک لڑ ہی رہے ہیں وجہ صرف یہ ہے کے کلمہ زبان تک محدود ہے کلمہ کا نور دل میں جا ہی نہیں رہا۔سیدنا گوھر شاہی امام مہدی المنتظرکی یہی تعلیم ہے کے زبان سے کلمہ پڑھنے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ سب نے زبان سے ہی کلمہ پڑھا ہے اور چوری بھی کی ڈاکے بھی ڈالے معصوم انسانیت کا قتل بھی کیا ،بتائیں کلمہ کا اثر کہاں نظر آتا ہے ؟ نماز مومن پر فرض کی گئی ہے

وَأَقِمِ الصَّلَاۃَ إِنَّ الصَّلَاۃَ تَنْہَی عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنکَرِ وَلَذِکْرُ اللَّہِ أَکْبَر
(45)سورہ العنکبوت
ترجمہ : نماز برائیوں اور بے حیائیوں سے روکتی ہے ۔

دیکھا گیا ہے کہ دس بیس سال سے نماز پڑھنے والے اِن ہی برائیوں میں مبتلا ہیں سوال یہ ہے کے ان کی نمازیں اِن کو برائیوں سے کیوں نہیں روک رہیں جواب یہ ہے کہ نماز مومن پر فرض کی گئی ہے مومن وہ ہے جس کے قلب میں اللہ کا نور یا اللہ کا نام سرائیت کر گیا ہو، زبان سے کلمہ پڑھنے سے مومن نہیں بنتا یہ ہی وجہ ہے کہ زبان سے کلمہ پڑھنے والے نماز پڑھنے کے با وجود برائیوں اور غلط کاموں میں ملوث ہیں اور اِسلام کو سمجھنے سے قاصر ہیں کوئی اہل بیت اعظام کی بے حرمتی کر رہا ہے تو کوئی بی بی فاطمہ کی توکسی کواللہ کے ولیوں سے بغض ہے تو کوئی حضور کی تعلیمات کا منکر ہے ، اسکی وجہ یہ ہی ہے کے کلمہ کا نور دلوں میں نہیں گیا ، اور نماز اتنی آسان چیز نہیں ہے نماز کے حوالے سے بھی قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا نماز پڑھو جب بھی قرآن میں نماز کا ذکر آیا تو کہا وَأَقِمِ الصَّلَاۃَ کہ نماز قائم کرو۔
یہ وہی نماز ہے جس کو حضورپاک نے مومن کی معراج قرار دیا، جب حضور پاک جسم سمیت اللہ کے دیدار کے لئے عالم بالا پر تشریف لے گئے تھے تب حضور نے اللہ سے درخواست کی کے جیسی معراج یعنی رفعت مجھے ملی ہے ایسی ہی معراج میری اُمت کو عطا ہو تو اللہ نے نماز کا تحفہ حضور کو دیا یہ وہ نماز ہے جب آپ کی اُمت کے لوگ اِس کو قائم کر لیں گے تو یہ اُن کے لئے معراج کا درجہ رکھے گی، جس نے یہ نماز قائم کر لی وہ گویا اللہ سے چپکے چپکے باتیں کرتا ہے، اگر دن میں پانچ وقت معراج مل جائے اور پھر بھی بہتان ،فراڈ ، فحاشی ، لوگوں کی عزتیں برباد کرنا، لوٹ مار کرنا،چوری انسانیت کی ناقدری قتل و غارت گری جاری ہے تو ایسی نماز معراج نہیں بلکہ تباہی ہے۔مالک الملک سیدنا را ریاض گوھر شاہی امام مہدی المنتظر فرماتے ہیں

اللہ نے جو دین بھیجے وہ غلط نہیں ہیں بھلے وہ دین آدم کا ہو یا ابراہیم و موسی کا بھلے وہ دین عیسی کا ہو یا آخری پیغمبر محمد ﷺ کا دین اسلام ہو ، یہ تمام ادیان اللہ کی طرف جانے کے مختلف راستے ہیں ۔

ہندو مسلم سکھ عیسائی مجوسی یہودی کوئی بھی ہو سب کو اللہ نے کوئی نہ کوئی دین دے کر بھیجا۔ ہندوؤں کا دین غلط نہیں ہے اِس کو بھی اللہ نے بنایا تھا یہودیوں کا دین غلط نہیں ہے اِس کو بھی اللہ نے اتارا تھا، عیسائیوں کا دین غلط نہیں ہےکیونکہ یہ بھِی منجانب اللہ دین ہے۔
دین کوآسان الفاظ میں سمجھنے کے لیے ایک مثال آپ کے سامنے رکھتے ہیں جیسا کہ سفر کرنے کے لئے مختلف سواریاں جن میں سائیکل ، موٹر کار ، ریل اور ہوائی جہاز وغیرہ شامل ہیں، کسی سواری پر سفر بہت دنوں میں طے ہوتا ہے اور کسی سواری پر سفر کچھ دنوں میں اور کسی پر سوار ہو کر کچھ گھنٹوں میں منزل مقصود پر پہنچ جاتے ہیں۔جن کی سمجھ میں یہ باتیں نہیں آتیں وہی لوگ دوسروں کو کافر منافق قرار دیتے ہیں ، وہاں تو قرآن میں لکھا ہے اور جو اپنے دین پر صحیح طرح سے عمل پیرا ہے وہ مومن ہے اور جنت میں جانے کا حقدار ہے لیکن آج مسلمان قرآن مجید کو بھول چکی ہے اور قرآن کا شعور چھن گیا ہے وجہ یہ ہے کے اِن کے قلب نور سے خالی ہیں ۔اللہ نے قرآن میں کہا

قَدْ جَاء کُم مِّنَ اللّہِ نُورٌ وَکِتَابٌ مُّبِیْنٌ
(15)المائدہ
ترجمہ: بیشک تحقیق ہم نے بھیجا نور اپنی جانب سے اور وہ کتاب بھیجی جوتجھے روشن کر دے گی۔

کتاب مبین کا مطلب روشن کتاب کیا قرآن پر کوئی ٹیوب لائیٹ یا بلب جلتا دیکھا کسی نے؟آپ چاہیں توکوئی بھی رسالہ یا کتاب پڑھ لیں کبھی بھی اُجالا نہیں ہو گا،لیکن یہ قرآن جس کوکتاب مبین کہا گیا ہے اِس کتاب کی آئیتوں کی خاص تعداد میں تکرار کرتے ہیں تب اُس سے نور بنتا ہے جس سے سینہ روشن ہوتا ہے ، اور جو جو سینے اِس کتاب مبین سے روشن ہوئے وہ بابا فرید داتا گنج بخش ، خواجہ نظام الدین اولیا،خواجہ غریب نواز بن گیا عبدالقادر جیلانی بن گئے۔ لیکن لوگوں نے قرآن پڑھنا تو سیکھا مگر جو طریقہ نور بنانے کاتھا وہ نہیں سیکھا۔یہ مسلمان نعوذو باللہ حضور ﷺ پرتہمت تو لگا سکتے ہیں صحابہ کرام پر انگلی تو اٹھا سکتے ہیں،اسی کتاب مبین سے تہتر فرقے تو بنا سکتے ہیں فتنہ فساد تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن اپنے دل میں نور نہیں پہنچا سکتے،مسلمان ہونے کے بعداِن کے پاس اتنی ترقی کا علم نہیں کے جو کلمہ زبان سے پڑھ رہے ہیں اُن کا قلب بھی یہ ہی کلمہ پڑھے ۔
حضور پاک نے حضرت علی سے کہا تھا: غمض عینک یا علی وسمع فی قلبک لا الہ الامحمدٌ رسول اللہاے علی اپنی آنکھیں بند کر تجھے اپنے قلب سے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی آواز سنائی دے گی۔اِس حدیث سے ثابت ہوا کے حضور پاک نے اپنے صحابہ کو زبان سے کلمہ پڑھانے کے بعد اُن کے قلوب کو کلمہ پڑھایا آج وہی علم امام مہدی گوھر شاہی اِس دنیا کو دے رہے ہیں یہ وہی دور آگیا ہے کے جس میں حضور نے لوگوں کے قلوب کو کلمہ پڑھایا تھا آج پھر وہی شاندار موقع ہے کہ جیسے یہ زبان کلمہ پڑھتی ہے ویسے ہی یہ دل بھی پڑھ سکتا ہے۔ زبان سے کلمہ پڑھنے سے کفر نہیں ٹوٹتا اگر زبان سے کلمہ پڑھنے سے کفر ٹوٹتا تو آج مسلمانوں میں تہتر فرقے نہ ہوتے۔جو لوگ ہم کو کافر کہتے ہیں اُن کو ہمارا چیلنج ہے کے امام مہدی کی ذات اور شان تک تو بعد میں رسائی ہو گی سیدنا گوھر شاہی نے اپنے غلاموں کو یہ طاقت اور تصرف اور قدرت عنایت فرمائی ہے کے وہ اپنا معجزہ اپنے غلاموں سے کسی بھی وقت کسی بھی جگہ رونما کراسکتے ہیں۔تمام عالم انسانیت کو کُھلا چیلینج ہے کہاگر دنیا امام مہدی گوھر شاہی کا تصدق چاہتی ہے تو تصویر گوھر شاہی جب چاند پر نظر آجائے توآنکھیں بند کرکے تین بار اللہ اللہ پکارے، اُسی لمحے ذکرِ قلبی جاری ہو گا اور تمہارے قلب سے اللہ ھو اللہ ھو کی آواز آنے لگ جائے تو پھریہ حق ہی ہے آزمائش شرط ہے۔ آؤ اور تصرف گوھر شاہی کو پرکھو دعوتِ عام ہے۔

کلمہ سبقت لا الہ الا ریاض

منجانب اللہ کسی بھی حق کا انکار کرنا کفر ہے۔ قرآن میں الراکا ذکر ہے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں ایم ایف آئی من گھڑت عقائد کا پرچار کر رہی ہے ہم تمہارے ہی قرآن سے الرا اور کلمہ سبقت لا الہ الا ریاض کی حقانیت ثابت کرتے ہیں اور یہ قرآن ہم نے اپنے گھر بیٹھ کر نہیں بنایا۔ الرا حروف مقطعات ہے اور قرآن کی کئی سورتیں اِس سے شروع ہوتی ہیں ، اور لا الہ الا ریاض کلمہ سبقت ہے ۔ قرآن کہتا ہے

وَمَا کَانَ النَّاسُ إِلاَّ أُمَّۃً وَاحِدَۃً فَاخْتَلَفُواْ وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْْنَہُمْ فِیْمَا فِیْہِ یَخْتَلِفُونَ
(19) الیونس
ترجمہ:جمعیت الاسلام اتنے قبائل اور اتنی اقوام میں منقسم نہ ہوتی ساری انسانیت امت واحدہ ہوتی اگر مجھے کلمہ سبقت کا انتظار نہ ہوتا۔

اِس کلمہ لا الہ الا ریاض کو کلمہ سبقت کیوں کہا جب کے اور بھی کلمے موجود تھے جو کہ مندرجہ ذیل تحریر کیے جا رہے ہیں۔
لا الہ الا اللہ آدم صفی اللہ
لا الہ الا اللہ ابراہیم خلیل اللہ
لا الہ الا اللہ موسی کلیم اللہ
لا الہ الا اللہ داؤد خلیفہ اللہ
لا الہ الا اللہ اسماعیل ذبیح اللہ
لا الہ الا اللہ نوح نجی اللہ
لا الہ الا اللہ عیسی روح اللہ
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
ان سب کلموں میں ایک بھی کلمہ ایسا نہیں تھا جس میں انسانیت کو اُمت واحدہ بنانے کی طاقت ہو، اگر طاقت ہوتی تو اب تک انسانیت اُمتِ واحدہ بن چکی ہوتی۔ قرآن میں ہے کے اگر تیرے رب کو کلمہ سبقت کا انتظار نہ ہوتا توتمام جمیعت انسان ٹکڑوں میں نہ منقسم ہوتی۔ان سب کلموں میں ایک بھی کلمہ ایسا نہیں تھا جس میں انسانیت کو اُمت واحدہ بنانے کی طاقت ہو، اگر طاقت ہوتی تو اب تک انسانیت اُمتِ واحدہ بن چکی ہوتی۔ قرآن میں ہے کے اگر تیرے رب کو کلمہ سبقت کا انتظار نہ ہوتا توتمام جمیعت انسان ٹکڑوں میں نہ منقسم ہوتی۔اور اِس سے بھی ضروری وضاحت کے یہ کلمہ سبقت عالم غیب کا کلمہ ہے عالم غیب اللہ کا جہاں ہے جہاں کا ہر فرد اللہ ہے، اِسی لئے جب لوگوں نے حضور پاک سے عالم غیب اور کلمہ سبقت کے بارے میں دریافت کیا تو اللہ نے حضور سے فرمایا کے ان کو بتا دیں کہ

فَقُلْ إِنَّمَا الْغَیْْبُ لِلّہِ فَانْتَظِرُواْ إِنِّیْ مَعَکُم مِّنَ الْمُنتَظِرِین
(20) الیونس
ترجمہ:میں غیب کے متعلق کیسے بتاؤں اور غیب کا علم تو صرف اللہ کے لئے ہے اور میں بھی منتظر ہوں اور تم بھی انتظار کرو۔

اول اللہ نے کلمہ سبقت کے بارے میں بات کی پھر عالمِ غیب کی بات کی یہ آیت ربانی ٹھوس ثبوت ہے کے یہ کلمہ حق ہے اور اِس بات پرشاہد ہے کے کلمہ سبقت عالم غیب سے آیا ہے اور جو عالمِ غیب سے نہیں آیا اُس کو اِس کلمہ کے بارے میں علم نہیں ، تب ہی اللہ نے کہا آپ کہہ دیں کے میں بھی انتظار کر رہا ہوں اور تم بھی انتظار کرو۔ ہم بھِی یہ ہی کہیں گے کہ کلمہ سبقت کی گستاخی کے بجائے قرآن پڑھو۔ لفظ سبقت کے بہت سے معنی ہیں ، سب سے قدیم یا سب سے پہلا، اور سبقت کا ایک اور مطلب ہے بازی لے جانے والا ۔کیونکہ یہ کلمہ سب کلموں پر سبقت لے جائے گا ۔

وضاحت :

جتنے بھی انبیاء و مرسل آئے وہ ایک مخصوص خطے اور قوم کے لیئے آئے ان کے کلموں میں اتنی طاقت نہیں تھی کے جمعیتِ انسانیت کو اُمت واحدہ بنا سکتے ، جب قرآن آیا تو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ آ چکا تھا اِ س لیئے معلوم ہوا کے محمد کا کلمہ بھی کلمہ سبقت نہیں ہے اگر ہوتا تو اُمت واحدہ بن چکی ہوتی ، کلمہ سبقت جب بھی آئے گا تو انسانوں کے گروہوں کو اُمت واحدہ بنا دے گا، پھر کوئی یہودی سکھ مسلم عیسائی نہیں رہے گا سب اِس کلمہ سبقت کو پڑھ کر دین الہی میں داخل ہو جائیں گے ۔ قرآن میں اللہ نے کہا:

إِذَا جَاء نَصْرُ اللَّہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْْتَ النَّاسَ یَدْخُلُونَ فِیْ دِیْنِ اللَّہِ أَفْوَاجاً
(1) سورۃ النصر
ترجمہ:جب اللہ کی مدد آ پہنچے گی جو سب کھول دے گی،تو تم دیکھو گے کے لوگ جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہو ں گے ۔

یہ آیت الہی کھلا ثبوت ہے کے اللہ نے انسانیت کو اُمت واحدہ بنانا تھا یہ انسانیت جو بہت سے گروہوں میں منقسم ہو چکی ہے کسی بھی کلمے میں یہ طاقت نہیں کے ان کو ایک کر سکتا، جب کلمہ سبقت آ گیا تو سب دیکھ رہے ہیں لوگوں کے گروہ کے گروہ دین الہی میں داخل ہو رہے ہیں۔ اللہ نے حضور ﷺ سے یہ بھی کہا

فَأَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفاً فِطْرَۃَ اللَّہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْْہَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللَّہِ ذَلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُونَ
سورۃ روم (30)
ترجمہ: اے محمد اپنا چہرہ دین حنیف کی جانب موڑ لیجئے (اسلام کی نہیں دین الہی کی بات ہو رہی ہے جومستقبل کی طرف اشارہ ہے۔)

آج لا الہ الا ریاض کلمہ سبقت ہر قوم کے افراد پڑھ رہے ہیں ، وہ چاہےمسلم ہوں سکھ ہوں عیسائی ہوں یا یہودی ہوں سب ہی اس کلمہ سبقت کو پڑھ رہے ہیں یہ کلمہ سبقت سب کے لئے ہے بھلے اُس کا کوئی بھی دین ہو ۔لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صرف مسلمانوں کا کلمہ ہے اِس کو مسلمانوں کے علاوہ کوئی بھی نہیں پڑھے گا، لا الہ الا اللہ عیسی روح اللہ عیسائیوں کے علاوہ کوئی نہیں پڑھے گا صرف کلمہ سبقت ہی وہ کلمہ ہے جو ساری جمعیت انسان کو اُن کے جسم کے مذاہب سے بالا تر ہو کراُمت واحدہ بنائے گا حدیثوں میں یہ بھی لکھا ہے کے جب بھی وہ ہستی جو کہ عالم غیب سے تشریف لائے گی تو اِس کے تصدق کے لئے منجانب اللہ کچھ نشانیاں بھی ظاہر ہوں گی اوروہ نشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں سورج پر کلمہ سبقت لا الہ الا ریاض تحریر ہے الرا تحریر ہے۔
یہ کلمہ سبقت کفر نہیں یہ وہ کلمہ ہے جس کا اللہ بھی منتظر تھا اور کلمہ سبقت عالم غیب کا کلمہ ہے لہذا یہاں ثابت ہو رہا ہے کے سیدنا گوھر شاہی امام مہدی کی ذات والا عالم غیب سے تشریف لائی ہے آپ کی کم سے کم شانِ اللہ ہونا ہے اور کلمہ سبقت لانے والا اللہ ہی ہو گا کیونکہ کلمہ سبقت عالم غیب سے آئے گا تو لانے والابھی عالم غیب سے ہی آئے گا اور گوھر شاہی کی صورت میں اللہ زمین پر آگیا ہے ۔قرآن نے کہا

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ مَن یَرْتَدَّ مِنکُمْ عَن دِیْنِہِ فَسَوْفَ یَأْتِیْ اللّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ
سورۃ المائدہ 5
ترجمہ:جب مومنین اپنے ادیان سے پھر جائیں گے تو اللہ اپنی قوم کے ساتھ زمین پر آئے گا ،اللہ اُن سے او روہ اللہ سے شدید محبت کرتے ہوں گے ۔

اللہ برادری سے ادریس ، الیاس، عیسی اِس دنیا میں آچکے ہیں ۔

گیا وہ دور ساقی کے چھپ چھپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہاں مہ خانہ، ہر ایک بادہ خوار ہو گا

وہ دور آگیا ہے جب اللہ اپنی قوم کے ساتھ زمین پر موجود ہے کلمہ سبقت لا چکا ہے اور دین الہی کی بنیادیں پڑ چکی ہیں ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں