کیٹیگری: مضامین

مختلف مذاہب میں کنیزوں کاسلسلہ:

کنیز وں کا مسئلہ اب صرف روحانی حلقوں تک محدود نہیں رہا جب سے جہادیوں نے فتنہ شروع کیا ہے اب یہ باتیں عام لوگوں کی زبانوں پر بھی آگئی ہیں ، جیسا کہ لوگ کہتے ہیں کہ حضورؐ کا بہت ساری عورتوں کے ساتھ بغیر شادی کے تعلق تھا۔ ایک آدمی سلمان رشدی جو کہ لندن میں رہتا تھا اُس نے بیس سال پہلے ایک کتاب لکھی جسکا نام(The Satanic Verses) تھا اس کتاب میں بھی اسی بات کا ذکر تھا ۔ اُس نےوہ بات کوئی اتنی زیادہ غلط تو نہیں کہی تھی لیکن اُس نے اسکو غلط سمجھا اوراسکا بتانے کا طریقہ کار منفی اور توہین آمیز تھا۔اسی طرح عیسی علیہ السلام کے حوالے سے بھی کہا جاتا ہے کہ ایک خاتون جنکا نام میری میکڈلین تھا انکی خاص مرید تھی لوگوں نے یہ بھی کہا کہ Marry سے انکی اولاد بھی ہوئی۔
اسکے علاوہ ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بھی بہت زیادہ مشہور ہے کہ انکی بیوی سائرہ بانجھ تھیں ،اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو کنیز بنانے کا حکم دیا ، انہوں نے یہ بات بیوی کو بتائی تو انہوں نے کہا اللہ نے کہا ہے تو کیا ہو سکتا ہے لیکن کنیز کون ہوگی اسکا فیصلہ میں کروں گی ۔ابراہیم علیہ السلام نے کہا ٹھیک ہے لہذا بی بی سائرہ نے مصر کی ایک کالی کلوٹی عورت کو منتخب کیا جسکا نام ہاجرہ تھا اُن سے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد اسماعیل علیہ اسلام پیدا ہوئے ۔
اسی طرح ہندو سنت جو گزرے ہیں ان میں بھی کچھ خاص خدمت گزار عورتیں انکے ساتھ رہیں ۔ عیسائی اور یہودی اولیاء میں بھی یہ سلسلہ تھا اورقرآن مجید میں یہ باتیں موجود ہیں ۔

شریعت کے احکامات حضورؐ پر لاگو نہیں ہوتے:

ہمارے سامنے شریعت کی جو صورت پیش کی گئی یا شریعت کے جو احکامات بتائے گئے ہیں وہ عام آادمی کے لیے ہیں ، کسی نے یہ نہیں بتایا کہ محمد رسول اللہ کے اپنی امت کے مقابل کیا اور کس کس پر احکامات ہیں ، یعنی ایک ایسا آدمی جو اپنے آپ کوعاشق رسول کہتا ہے وہ بھی یہاں اس بات پر آ کر مار کھا جاتا ہے اور جو شریعت کے احکامات اسکے لیے ہیں وہ حضور کے لیے بھی وہی سمجھتا ہے، جیسا کہ نماز روزہ حج اور زکوۃٰ ہیں، وہ سمجھتا ہے حضورؐ پر بھی نماز فرض تھی اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ حضورؐ نے کبھی نماز قضا نہیں کی تھی ، حضورؐ نے نماز قضا نہیں کی اسکی کوئی اور وجہ بھی تو ہو سکتی ہے صرف ایک وجہ ہی تو نہیں تھی کہ نماز فرض تھی؟ یہ بھی وجہ ہو سکتی ہے کہ امت کے لیے ایک سنت بن جائے اور ایک مثال قائم ہو جائے تاکہ اُمت دھینگا مستی نہ کرے کہ حضور نے خود تو پڑھی نہیں اور ہم پر فرض کر کے چلے گئے۔ کیونکہ یہ اُمت بھی تو ایسی ہی ہے۔
اس کے علاوہ دہشت گردوں نے sex slave کی جو کہانی بنا رکھی ہے، وہ قرآن کی آیات اور حضور پاک کی کچھ احادیث جو اس حوالے سے فقیروں اور درویشوں کے لیے ہیں ،یہ وہابی دہشت گرد فقیروں اور درویشوں کو تو مانتے ہی نہیں ہیں ، لیکن یہ باتیں انہوں نے اپنے لیے جائز کر لی ہیں ۔سورہ مومنون اور سورہ احزاب میں اس بات کا حوالہ موجود ہے۔سرکار گوہر شاہی نے بھی اِس موضوع پر گفتگو فرمائی جس میں تین اہم نکات ہیں ۔

پہلا نکتہ :

کہ جو لوگ اللہ سے واصل ہو گئے اللہ کا دیدار کر لیا تو وہ پھر قیدِ شریعت سے آزاد ہو جاتا ہے۔

دوسرا اہم نکتہ:

جو بیان فرمایا وہ یہ ہے کہ ایک ایسا پتھر ہے جسے پارس کہتے ہیں اگر وہ تانبے کو لگا دیں تو تانبا سونا بن جاتا ہے، اسی طرح اگر کوئی عورت بنا شادی کے اپنا جسم کسی ولی کو دے گی تو اسکے لیے ضروری ہے کہ جب اسکا جسم اُس ولی کے جسم سے مّس ہو تو وہ پھر عورت نہ رہے ولی بن جائے اور اگر ولی نہ بن سکے تو کم سے کم اُسکا سینہ منور ہو جائے اگر ایسا ہے تو اُس عورت کو نقصان نہیں ہے۔ سیدنا گوھر شاہی نے فرمایا یہ حکم اُن ولیوں کے لیے ہے جو پارس کی مانند ہیں کہ جس کو اپنے ساتھ لگا لیتے ہیں اسکا سینہ منور کر دیتےہیں۔ کسی کا پارس ہونا یا اُس سے لگ کر کسی کا سینہ منور ہونا اِس بات کا براہ راست دیدارِ الہی سے تعلق ہے۔سلطان حق باھو کا شعرہے:نظرجنہاں دی کیمیا ہوئے سونا کردے وٹ…..جنکی نظروں کو کیمیا گری عطا ہوگئی وہ پتھر پر نظر ڈال کر سونا بنا دیتے ہیں اور یہ انکی ظاہری پہچان ہے ، اور انکی باطنی پہچان یہ ہے کہ اگر وہ مردہ قلب پر نظر ڈالیں تواسکو اِسم ذات اللہ سے بیدار کر دیتے ہیں ۔ تو یہ معاملہ اُن لوگوں کے لیے تھا جنکے دلوں پر اللہ کا نقش اللہ کی تصویر آ گئی، جو دیدار الہی میں چلے گئے اور دیدار الہی میں جانے کے بعد پھر وہ پارس بن گئےاب انکا کام تانبے کو سونا بنانا اور انکی زندگیوں میں انقلاب بپا کرنا تھا۔ ایسے بندوں پر اللہ کی تین سو ساٹھ تجلیات گرتی رہتی ہیں ، ایک تجلی یا ایک نظر رحمت سات کبیرہ گناہوں کو جلاتی ہے اب ولی کے گناہ تو ہوتے نہیں ہیں۔ فرض کیا اُس ولی نے کوئی کنیز رکھی تو اگر ایک نظر رحمت کی زد میں بھی وہ آگئی تو سات کبیرہ گناہ جل جائیں گے، زندگی بھر کی عبادت مل کر بھی ایک کبیرہ گناہ کو نہیں جلا سکتی، لیکن اگر وہ کسی وصل الہی والے ولی کی صحبت میں چلی گئی تو نہ جانے کتنی نظر رحمت یا تجلیات کی زد میں آئے گی اور اسکے سارےگناہ دھل جائیں گے سینہ منور ہو جائے گا۔ جن لوگوں میں یہ طاقت ہے تو اللہ تعالی کی طرف سے ان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

تیسرا اہم نکتہ:

یہ جو اولیاء کرام ہیں یہ جب راہ سلوک پر چلتے ہیں تو اللہ تعالی اِن سے فرماتا ہے تُو مجھ سے دوستی کرنا چاہتا ہے وہ بندہ کہتا ہے کہ ہاں ! اللہ کہتا ہے ٹھیک ہے جو میں کروں گا اس پر راضی رہے گا؟ ولی کہتا ہے ہاں جو تو کرے گا میں اُس پر راضی رہوں گا، یہ ولی کا امتحان ہوتا ہے۔ کسی کا یہ امتحان ایک سال تک چلتا ہے اور کسی کے لیے یہ امتحان تین سال تک چلتا ہے اس امتحان میں ہوتا کیا ہے؟ کہ خضرؑ آتے ہیں اور اس بندے کا امتحان لیتے ہیں ، اس امتحان کے دوران اللہ کی طرف سے اسکو مصیبتوں ، محرومیوں صدموں سے گزارا جاتا ہے، جسمانی تشدد ، جسمانی تکلیف میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ تنگ آ کر کہے مجھے ولی نہیں بننا ، لیکن اگر وہ ولی اِس امتحان کے دوران ہر بات ہر یہ کہے جو رب کو منظور ، خیر ہے تو پھر اُس امتحان کے آخر میں جب اسکو امتحان میں کامیابی ہو جاتی ہے تو پھر اللہ اس بندے کو کہتا ہے ۔“اے نفس مطمئنہ والے تو مجھ سے راضی ہوجا میں تجھ سے راضی ہوں ”۔یہ راضیہ مرضیہ کا مقام ہے۔ یعنی رب تجھ سے راضی تُو رب سے راضی، اتنی بات تو سمجھ میں آرام سے آ جاتی ہے لیکن اب اس سے اگلی جو بات ہے اسکو سمجھنا ہی ولایئت ہے۔

راضیہ مرضیہ کی وضاحت:

راضیہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی مرضی میں جو آیا اس نے کر دیا ، جو فیصلہ اس نے چاہا اس نے تیرے لیے کر دیا بھلے وہ تیرے لئے مصیبت کا باعث بنے اب چونکہ یہ اللہ کا فیصلہ ہے تجھے راضی رہنا ہے، اسکے بعد مرضیہ کیا ہے؟ اس سے مراد اب اس کے بعد وہ ولی جو کہے گا تو اللہ کچھ نہیں بولے گا۔ یعنی راضیہ مرضیہ کی تشریح یہ ہوئی کے اللہ جو فیصلہ کرے گا تو تو کچھ نہیں بولے گا اور تو جو فیصلہ کرے گا اللہ کچھ نہیں بولے گا۔جو لوگ راضیہ مرضیہ پر آ گئے انہوں نے جب دیکھا فلاں عورت آئی اور اس نے میری بڑی خدمت کی لیکن وہ ہے جہنمی تو اس ولی نے اللہ کو کہا اسکو جنت میں بھیجو اب اللہ کچھ نہیں کہہ سکتا ، اللہ کا قانون ایک طرف ہے لیکن یہ اسکا وعدہ ہے، اللہ نے کہا

إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ
سورۃ آل عمران آیت نمبر 194
ترجمہ: بے شک اللہ اپنے وعدے سے نہیں پھرتا ہے۔

اور یہ بات اللہ کے لیے ایک اخلاقی فریضہ ہے کہ جو وعدہ اُس نے اپنے ولی سے کیا اس پر جائز نا جائز جو بھی ہے کچھ نہیں کہے گا ،شریعت اورقرآن میں کیا لکھا ہےوہ ایک طرف ،اللہ اس وعدے کو نبھائے گا۔ یہی راضیہ مرضیہ ہے۔

“راضیہ مرضیہ کے مقام پر جو فائز ہوا ان کے لیے اللہ کی طرف سے یہ چھوٹ ہے کہ وہ کنیزیں رکھ سکتے ہیں اور باقی لوگ اگر یہ کام کریں گے تو حرام ہے”

کثیر تعداد میں کنیز بنانے کے پیچھے کیا علم پوشیدہ تھا؟

یہ نکتہ ایسا ہے جو بڑا ٹیکنیکل ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چلوٹھیک ہے اللہ کی طرف سے حضور پاک اور ولیوں کو کنیز بنانے کی چھوٹ تھی ، حضور نے گیارہ شادیاں کیں اسکے علاوہ انکی کنیزوں کی تعداد سو تھی کیا اتنا ساراہتمام صرف جنسی تسکین کے لیےتھا؟ اسکی وجہ سمجھنا عام لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے، کیونکہ لوگوں کے پاس علم نہیں ہے۔وہ علم کیا ہے جس سے معلوم ہو کہ اتنی کنیزوں کی ضرورت کیوں پڑی؟ اللہ کے دیدار کے مختلف طریقے ہیں ۔
۱۔۔۔۔۔۔لطیفہ انا کے ذریعے خواب میں اللہ کا دیدار ہوتا ہے۔
۲۔۔۔۔۔۔ ایک دیدار کے لیے مراقبہ موت لگایا جاتا ہے۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ایک معراج جسمانی ہوا اور تینتیس معراج روحانی ہوئے تھے۔اگر وہ معراج حضور پاک نے کیا تو وہ معراج روحانی کہلائے گا اور اگر وہ معراج ولی نے کیا تو مراقبہ موت کہلائے گا۔

مراقبہ موت کیا ہے؟

مراقبہ موت میں لطیفہ روح اور لطیفہ انا کا ایک ساتھ مراقبہ لگتا ہے، اس مراقبہ کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں ۔یا تو وہ مراقبہ لگانے کے لیے پہلےچالیس دن کا روزہ رکھیں ۔جب وہ چالیس دن کا روزہ رکھیں گے تو انکے جسم کے بند جنہوں نے لطائف کو قبضے میں کیا ہوا ہے ، بھوک اور حالت ِکمزوری سے جب جسم لاغر ونحیف ہو جاتا ہے اب اس وجہ سےلطیفوں پر لگے وہ بند کھل جاتے ہیں ۔آپ چوبیس گھنٹہ بھوکا رہ کر دیکھیں گے کہ آپ کو دل کی دھڑکنیں محسوس ہونے لگیں گی جو کہ عمومی طور پر اتنی تیز محسوس نہیں ہوتیں۔یا تو چالیس دن کا روزہ رکھیں یا پھر آپ کے پاس اس دن کنیزوں کی تعداد اتنی ہو کہ کم سے کم دس بارہ کے پاس ایک دن میں چلے جائیں ۔اگر ایسا ہو تو جو آب منی ہے وہ گھٹنوں ،پیلوس، ٹخنوں میں ایک پیالہ ہے اس میں ہوتا ہے وہاں سے وہ جب اچھی خاصی تعداد میں مادہ نکل جاتا ہے تو جسم لاغر و نحیف ہو جاتا ہے ۔مراقبہ موت لگانے کے لیے ضروری ہے کہ جسم کے اندر وہ سات بند جو لطیفوں پر لگے ہوئے ہیں وہ جوڑ کھلیں ۔

“اب حضور پاک کے پاس اتنا وقت تو نہیں تھا کہ ہر معراج سے پہلے چالیس چالیس دن کا روزہ رکھتے ، کیونکہ انکو تبلیغ کا کام بھی کرنا تھا اگر چالیس چالیس دن روزے کی حالت میں رہتے پھر معراج کو جاتے پتا نہیں کب واپس آتے ، اسکے لیے انہوں نے یہ رکھا کہ بجائے چالیس چالیس دن کا روزہ رکھیں بند کو کھولنے کے لیے ، وہ متواتر روزے رکھتے یعنی ہفتہ میں تین چار روزے ضرور رکھتے اور دوسری طرف کنیزیں بھی تھیں تو دونوں کی مدد سے انکے جسم کے بند کھل جاتے اور لطیفہ انّا اور روح دونوں مل کےاوپر چلے جاتے”

لطیفہ انا کا دیدار خواب میں ہوگا ، اب یہ خواب میں کیوں ہو گا؟ کیونکہ سوتے وقت جسم بے سدھ ہو جاتا ہے ، نیند کی حالت میں لطیفہ انّا تو نکل سکتا ہے لیکن نیند کی حالت میں لطیفہ روح نہیں نکل سکتی ، لہذا روح کو نکالنے کےلئے کیونکہ روح تمہاری نسوں میں پھنسی ہوئی ہے،وہ بند ہلکے ہوں گے اُسکو راستہ ملے گا تب ہی وہ روح ادھر سےنکلے گی۔ جن لوگوں کو یہ راز یہ علم نہیں پتا وہ تو یہ ہی سمجھیں گے نا انکو عورتوں کا شوق تھا۔ولیوں کو بھی جو یہ چھوٹ دی گئی اس کی وجہ شوق نہیں تھا ہو سکتا ہے ایک دوگھڑی کے لیے شوق بھی ہو لیکن اِس چھوٹ کا جو اصل کام تھا یہ ہی تھا ۔
غوث پاک کو جب مراقبہ موت لگتا تو انکا جسم سترہ سترہ دنوں تک بے سدھ پڑا رہتا ،آپ جنگلوں میں ہوتے جب ڈاکو وہاں سے گزرتے دیکھتے کہ جب ہم یہاں سے گزرے تھے تب بھی یہ پڑا ہوا تھا ایک ہفتہ بعد جب لوٹ کر آئے ہیں تب بھی اسی جگہ پڑا ہوا ہے تو وہ انکے کفن دفن کا انتظام کرتے جب قبر میں انکو لٹانے لگتے تو غوث پاک اٹھ کر بیٹھ جاتے، یہ مراقبہ موت ہے۔
یہ مراقبہ موت ہے جوولی کو لگتا ہے اگر یہی مراقبہ موت حضور پاک لگاتے تو وہ معراج کہلائی، حضور پاک نے کل ٹوٹل چونتیس مرتبہ معراج کیے ۔چونتیس بہت ہوتا ہے، حضور پاک نے چالیس سال کی عمر میں نبوت کا آغاز کر دیا ، اس چالیس سال سے پہلے اللہ تعالی انکی تربیت کر رہا تھا،نفس کی پاکی ، قلب کا جاری ہونا ، طفلِ نوری کا اندر ڈالنا جسّہ توفیق ِالہی کا آنا ، جب عمر چالیس سال کی ہوئی تو بالکل تیار ہو گئے، اسکے بعد روحانیت میں اپنی ذات کے لیے بھی آگے بڑھنے لگے، جب روحانیت میں اپنی ذات کے لیے آگے بڑھنے لگےتو وہ اپنا طریقہ نہیں تھا ،جو علم اب ابھی تک آیا تھا وہ نبوت کے لیےآیا تھا ، طریقہ نہیں تھا اب انکی کوشش ہوتی کہ رب کو دیکھوں ، رب کو دیکھنے کی کوشش کے لئے کبھی وہ ادھر نظر کرتے کبھی ادھر نظر کرتے تو پھر اللہ نے انکو لطیفہ انّا کا علم دیا ،اور یہ کہہ کر دیا

وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ
سورۃ الضحی آیت نمبر 7
ترجمہ: اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔

کہ جب تجھ کو ہم نے اپنی محبت میں شیدا پا یا اور تجھ کو پتا نہیں تھا کیا کروں تو ہم نے تجھے ہدایت یعنی لطیفہ انّا کی تعلیم اور ہدایت دی۔ یہ ہدایت وہ والی نہیں ہے جو عام لوگوں کو دی جاتی ہے کیونکہ آپؐ گمراہ تو نہیں ہیں ۔اللہ نے کہا جب ہم نے دیکھا آپ کا شوق بڑھ رہا ہے اور ہمیں دیکھنے کی کوشش میں اِدھر اُدھر دیکھ رہا ہے تو ہم نے تم کو ہدایت دی، وہ ہدایت لطیفہ انّا اور دیدار الہی والا علم دینے کی طرف اشارہ ہے۔جب وہ علم اللہ نے دیا تو وہ لطیفہ انّا کے ذریعے پہنچ گئے۔

“اگر سرکارگوہر شاہی چاہیں تو نیند کی حالت میں بھی روح نکال سکتے ہیں”

لیکن یہ انکی طاقت پر ہے یہ نہیں کہ تم اپنی مرضی سے چاہو اور اپنی روح نکال لو۔وہ اگر تمہارے جسم سے روح نکال کر اوپر لے جائیں تو یہ اُنکی طاقت ہے۔ یہ کنیزیں بنانے کا معاملہ اُن ولیوں کے لئے تھا جو دیدار الہی والے تھے ،جو فنا فی اللہ کی منزل پر فائز ہو گئے تھے۔ عام ولیوں کے لئے یہ باتیں نہیں تھیں ، نہ کسی مومن کے لئے ہیں ، کیونکہ یہ خاص درجہ والی باتیں ہیں ۔جیسے کہ قرآن کی یہ آیت ملاحظہ ہو :

إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ
سورة المؤمنون آیت نمبر 6

اس آیت میں اللہ نے فرمایا ہے کہ مومن کے نکاح میں جو عورتیں آئی ہیں اور جو انکی ملکیت میں آ گئیں وہ بھی انکے لیے جائز ہیں ۔اب تم تو انکو مومن ہی سمجھو گے نا ، لیکن ٹھہر جاؤ۔ اس آیت میں آگے یہ بھی لکھا ہوا ہے أُولَـٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ وہ مومن جو اس زمین کے وارث ہیں ۔یہ زمین انسانوں کی تو نہیں ہے اللہ کی ہے اب جو اس زمین کے وارث ہو گئے اُس سے مراد یہ ہے کہ اب جو اللہ کا ہے وہ انکا ہے ۔ اب جو عورتیں انکی ملکیت میں آئیں وہ اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ وارث ہیں تو انکا بھی ان پرحق ہو گیا ۔
قدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ﴿1﴾ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ﴿2﴾
وہ لوگ جو نماز میں ہوتے ہیں ان کے اندر کے جو جسّے ہوتے ہیں وہ جسم کے اندر سے نکل جاتے ہیں ۔
وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ﴿3﴾
اور وہ فضول چیزوں میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔یعنی ایسا نہیں ہے کہ انکے پاس طاقت ہو اور وہ اپنے لطیفوں جسوں کو لے کر تمہارے پاس ہی بیٹھے رہیں ، یہ ان لطیفوں اور جسوں کا وقت ضائع کرنا ہو گیا ، اور وقت ضائع نہیں کرتے اور انکو نکال کر وہاں بھیج دیتے جہاں سے وہ آئے ہیں ۔
وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ ﴿4﴾
اگر یہ اشارہ عام مومن کے لیے ہے تو بتائیں کیا مسلمان پر زکواہ فرض نہیں ہے؟ تو پھر یہ کیوں لکھا کہ وہ مومن جو اپنی زکوۃ بھی ادا کرتے ہیں ، یہ کوئی اور زکوۃ ہے جو ولائت کی زکوۃ ہے اور اسی زکوۃ میں کنیزیں بھی آتی ہیں ۔ورنہ تو سارے مومن ہی زکوۃ دیتے ہیں ،یہ وہ زکوۃ ہے جو سارے مومن نہیں دیتے، یہ زکوۃ عشق کی زکوۃ ہے،ولائت کی زکوۃ ہے۔ عشق کی زکوۃکیا ہے؟ جو تجھے عشق کا قطرہ ملا ہے اسکے چھینٹے بھی کسی پر مار دے۔ چھینٹے کیوں مار دے؟ کیونکہ رب نے اسکے مقدر میں لکھا ہے لیکن اسکے پاس کوئی راستہ نہیں ہے تو اپنی زکواہ سے چھینٹے مار کر اسے رب تک پہنچا دے۔
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ﴿5﴾
اوروہ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتے ہیں ۔ تم سوچتے ہو کہ کسی عورت سے ہمبستری نہ کرنا شرمگاہ کی حفاظت ہے ، نہیں ! اس سے مراد کسی ایسی عورت کے پاس نہیں جانا کہ جس کے اندر نور نہ ہو۔
إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ﴿6﴾
یہاں یہ بتایا کہ کس کس کی انکو چھوٹ ہے۔ ایک وہ جوانکی بیگمات ہیں اور ایک وہ جو انکی ملکیت میں ہیں ۔ ایمان کے ذریعے اُن پر انکا قبضہ ہوا ہے ، یعنی اس پر انکو کوئی لعن طعن نہیں کر سکتا ، کہ یہ کیا کیا ہے ،وہ توانکی ملکیت ہے۔
أُولَـٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ
وہ اس دنیا کے وارث ہیں اور جو دنیا میں رہتا ہےا سکے بھی وارث ہوگئے۔

“جو لوگ کہتے ہیں کہ حضور پاک نے ایسی عورتیں زیر استعمال رکھیں جن سے نکاح نہیں تھا تو ہاں ایسا تھا کچھ تعداد تھی ، ساری مخلوق اللہ کی ہے اللہ نے انہیں اجازت دی اور اگر کوئی اس پر اعتراض کرتا ہے تو اللہ کے فیصلے پر اعتراض کرتا ہے ۔جو رب کی طرف سے چھوٹ اور رب کی طرف سے کیے گئے انعام پر اعتراض کرے گا تو اپنے ایمان سے جائے گا”

جو لوگ بلا وجہ اعتراض کرتے ہیں کیا وہ ادھر ادھر نہیں جاتے؟ خود باہمی رضامندی کے ساتھ کسی کے ساتھ بھی سو جاتے ہیں ، تو وہ سو عورتیں جو بغیر نکاح کے حضور پاک کی ملکیت میں تھیں ان سے تم نے پوچھا انکی مرضی تھی یا نہیں ؟ اگر انکی مرضی تھی تو تم کو کیا اعتراض ہے!! وہ بھی باہمی رضامندی ہی ہوئی کسی پر زبردستی نہیں تھی۔ تمہارے لیے باہمی رضامندی ہے لیکن ہوسکتا ہے ان عورتوں کے لیے ساری زندگی کی کمائی ہو وہ کہتی ہوں ہمارے لیے تو یہ خوش قسمتی ہے، حضور پاک نے ہمیں چھو لیا ہمارا تو مقدر بن گیا۔
کنیزیں بنانا حسب ضرورت ہے، مومن کو کہا ایک نہیں چار شادیاں کر لے لیکن حرام نہ کر، مومن کو تو سو کی ضرورت نہیں ہے ۔دل تو کہتا ہے سو آنے دو لیکن یہ انکے بس کی بات نہیں ہے۔پہلے ویسا پیدا تو کریں قلب سلیم۔عام مومن کے لیے تین چارشادیاں کافی ہیں اگر دیدار الہی نہیں ہے۔کیونکہ اس سے آگے انکی کہانی بڑھے گی ہی نہیں ، یہ انکے لئے ہےجنہیں مراقبہ موت کرنا ہے ۔یہ چھوٹ ولایت اولٰی والوں کے لئے ہے اور اس دور میں ولایت اب نہیں ہے تو اِس دور میں کنیزیں بنانا کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے۔یاد رہے کہ موسی علیہ السلام صرف کلام الہٰی کے لیے کوہ طور پر جانے سے پہلے چالیس دن کا روزہ رکھتے تھے۔

مندرجہ بالا مضمون 5 مئی 2017 کی نشست سے لیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس