کیٹیگری: مضامین

فتنہ کیا ہوتا ہے ؟

فتنہ ِوہابیت پر تقریباً ہر راسخ العقیدہ مسلمان اور عالموں نے اپنے علم کی روشنی میں اظہارِ خیال کیا ہے اور اپنے تحفظات و خدشات کا اظہار کیا ہے کہ وہابی فتنہ ،اسلام میں کس قدر نقصان دہ ہے ۔تعلیماتِ گوہر شاہی انسانیت کیلئے عظیم ترین تحفہ ہیں بالخصوص اُن لوگوں کیلئے جو راہِ حق کے متلاشی ہیں اور رب سے محبت کرنا چاہتے ہیں ، صراطِ مستقیم پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ، اُن لوگوں کیلئے اِن تعلیمات کا جاننا انتہائی ضروری ہے ۔ فی الوقت آپکا تعلق سیدنا امام مہدی گوہر شاہی سے ہو یا نہ ہو لیکن اِن تعلیمات کو سننے کے بعد آپ کیلئے اپنے ضمیر سے مخاطب ہونا اور یہ سوال کرنا ضروری ہے کہ کیایہ حقیقت نہیں ہے ؟ حق کو کسی بھی وجہ سے جھٹلا دینا کفر ہے ۔ خواہ آپ اپنے بغض کی وجہ سے ان تعلیمات کو جھٹلائیں یا کسی اور وجہ سے جھٹلانے کی جراٗت کریں ، حق کو جھٹلانا کفر ہوگا ۔ یوں تو سب ہی کہتے ہیں کہ فتنہ وہابیت اسلام کیلئے انتہائی خطرناک ہے لیکن صرف فتنہ وہابیت ہی تو اسلام میں فتنہ نہیں ہے اور بھی بہت سارے فتنے ہیں ۔

“فتنہ اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی دین ، کسی مذہب کا مروجہ نظامِ عقیدہ متاثر ہوجائے ۔ اور جو حقیقت ہو ابتدائی مرحلے میں دھندلی پڑجائے اور بعد میں راستہِ حقیقت ایک سراب کی مانند نظر آئے ۔ یہ دور جس سے ہم گزر رہے ہیں اس دور کو احادیث میں دورِ فتن کہا گیا ہے ”

اس سے پہلے بھی دنیا میں کئی فتنے رونما ہوچکے ہیں ، بہت سے لوگ دینِ اسلام میں فتنہ پیدا کرنے کا باعث بنے ہیں لیکن یہ جو دور ہے اسکو دورِ فتن کہا گیا ہے ۔ فرقہ وہابیہ دین ِ اسلام میں ویسا ہی ہے جیسا کہ اسلام سے پہلے ایک گروہ تھا ۔ آپکی معلومات کیلئے عرض کر دیتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ جس مقام پر پیدا ہوئے اُس مقام کا نام نصریٰ تھا اور وہاں جو لوگ رہتے تھے اس علاقے کی نسبت سے نصرانی کہلاتے تھے ۔ قرآنِ مجید میں اُن لوگوں کا ذکر آیا ہے اور یہی گروہ جنکو قرآن نے نصرانی کہا ہے اِس گروہ نے ذکریا علیہ السلام سے دشمنی کی اور اُنکو قتل کیا ۔ یہ گروہ ہر اس شخصیت کے پیچھے پڑ جاتے تھے جو اپنے آپکو نبی یا رسول کہتا تھا ۔ حضور پاک کے تشریف لانے کے بعد تو یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ محمد الرسول اللہ آخری نبی ہیں اور آپکے بعد نہ کوئی نبی آئیگا نہ کوئی مرسل ، یہ حقیقت مسّلّم ہے ۔ آج اگر کوئی کہتا ہے کہ کوئی اپنے آپکو نبی نہ کہے ، مرسل نہ کہے تو یہ حق ہے لیکن حضور پاک کی آمد سے قبل تو نبوت کا سلسلہ جاری تھا ، نبیوں اور رسولوں نے آنا تھا ، اُس دور میں نبوت ختم نہیں ہوئی تھی ۔ اُس دور میں وہ نصرانی نبیوں اور مرسلین کے وجود کے منکر تھے۔ اُن لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ جو بھی نبی یا رسول آئے اسکو قتل کر دو ۔ جب حضور پاک کا دور آیا تو نصرانیوں کے گروہ کی ارضی ارواح حضور کے دور میں آنے والے مرتدین اور منافقین کے جسموں میں آئیں اور انکا اخراج فتنہ وہابیہ کی صورت میں ہوا ۔

“اگر آپ کتابیں کھنگالیں گے تو ان میں یہ بات نہیں ملے گی کیونکہ تاریخ دان صرف وہ لکھ سکتا ہے جو نظر آتا ہے اور جو اہلِ ذکر اور اہلِ نظر ہوتے ہیں وہ وہ بتاتے ہیں جو لوحِ محفوظ پر لکھا ہوتا ہے ”

دورِ فتن:

نصرانیوں کی ارضی ارواح مرتدین اور منافقین لوگوں میں آگئیں ۔ ایک دور تک یہی سلسلہ چلا اور شیخ عبدالقادر جیلانی کا دور گزرنے کے بعد نصرانیوں اور وہابیوں کی ارضی ارواح جو پہلے وہیں تک محدود تھیں اسکے بعد وہ ہر جگہ آنا شروع ہوگئیں ۔ آپ لوگوں کا خیال ہے کہ وہابی ہی وہابی ہے لیکن یہ وہ دور ہے جسکو دورِ فتن کہا گیا ہے ، دورِ فتن کا مطلب ہوا کہ اب اس دور میں فتنہ کسی بھی گروپ ، کسی بھی گروہ ، کسی بھی فرقے میں داخل ہوجائیگا ۔ فتنہ صرف وہابیہ کا نہیں ہے ، فتنہ اہلِ سنت و الجماعت میں بھی پیدا ہوگیا ہے ۔ اگر آپ سنیوں کا ہی ذکر کرلیں تو آپ دیکھیں گے کہ سنیوں میں اہلِ سنت و الجماعت یعنی ولیوں اور تصوف کو ماننے والے گروہ میں گیارہ فرقے بن چکے ہیں ، اِن میں بھی فتنہ آگیا ہے ۔ جو بات نوٹ کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ فتنہ یہ دیکھ کر نہیں آتا کہ یہ کس کی اولاد میں سے ہے ، یہ کس کا خون ہے ۔ صرف محمد الرسول اللہ کا خون پاکیزہ تھا اور وہ خون سات پشتوں تک چلتا رہا ، مٹی میں ملتا گیا تاثیر ختم ہوتی گئی ، آٹھویں پشت آئی تو مٹی رہ گئی نور نہیں رہا ۔ یعنی حضور کی آل میں سات پشتوں تک تو نور کی تاثیر رہی لیکن آٹھویں پشت میں سے نور کی تاثیر ختم ہوگئی جسکے بعد ان میں اور ایک عام آدمی میں کوئی فرق نہیں رہا ۔ اگر کسی اور نبی کے خون میں بھی نور ہوتا تو نوح علیہ السلام کا بیٹا کافر نہ ہوتا ۔ یہ سمجھ کر مطمئن رہنا کہ میرے باپ دادا اہلِ سنت والجماعت سے تھے لہذا میں بھی اہلِ سنت والجماعت سے ہوں ، یہ صحیح نہیں ہے ۔ اہلِ سنت والجماعت نام کا کوئی صوفی سلسلہ نہیں ہے ، یہ عقائد کا نام ہے ۔ یہ عقیدے ، تسلیم ، قبولیت کا نام ہے ۔ قادری ، چشتی ، نقشبندی ، سہروردی ، یہ سلسلے رب سے تعلق جوڑنے کا نام ہیں ۔ ان سلسلوں میں رب سے تعلق اُس وقت تک جڑتا رہا جب تک یہ سلسلے اللہ سے پیوستہ رہے ، روحانیت سے پیوستہ رہے تو اِن میں رب سے تعلق جوڑنے کا سلسلہ تھا ۔ جب اِن سلسلوں سے ولایت چلی گئی تو پھر جاہل ، گنوار ، اجڈ اولاد ولی اور پیر بن کے بیٹھ گئی ۔

وہابی فتنے کا نتیجہ رب سے دوری ہے :

ضروری نہیں ہے کہ وہابی ہونے کیلئے وہابی ہونا پڑیگا ۔ وہابی کا فتنہ رب سے ، رسول سے دور کرنے والا عمل ہے ۔ وہابی وسیلے کو نہیں مانتا ، حضور کی شان میں گستاخی کرتا ہے ۔ اِس سے نتیجہ کیا نکلتا ہے کہ آپ رب تک نہیں پہنچ سکتے ۔ جو راستہ ، جو وسیلہ ، جو نبوت کا فیض انسان کو رب سے جوڑ سکتا ہے جب اسکا انکار ہوجائیگا ، وسیلے کا انکار ہوجائیگا ، وہ راستہ کٹ جائیگا تو نتیجتاً رب سے دوری ہوجائیگی ۔ اِس فتنے کا نتیجہ رب سے دوری ہے ، آپ رب سے دور ہوجائینگے ۔ اگر اس فتنہ وہابیہ کا نتیجہ چند لفظوں میں برآمد کیا جائے تو یہ ہوگا کہ ’’ایسا گروہ جسکی تعلیم و تربیت سے انسان رب سے دور ہوجائے ، رب کو نہ پاسکے ‘‘ ۔

“جو بھی گروہ ، جس قسم کی بھی تعلیم بیان کر رہا ہو ، اگر اسکی وجہ سے انسان رب سے دور ہوجائے ، محمد الرسول اللہ کی محبت حاصل نہ کرپائے ، حضور کی شفاعت حاصل نہ کرپائے ، انکے شیوہ باطن کو استعمال نہ کر پائے اور رب تک نہ پہنچ پائے تو وہ بھی اسی فتنے کا شکار ہے ”

آج شیعہ ہو ، سنی ہو ، وہابی ہو یا دیوبندی ، یہ سارے کے سارے فرقے جو کچھ بیان کر رہے ہیں اُس سے نہ تو کوئی حضور کی ذات تک پہنچ رہا ہے اور نہ اس سے کوئی حضور کی ذات کا جو وسیلہ بطریقِ باطن عطاہوا تھا اسکے ذریعے اللہ تک پہنچنے کے قابل رہا ہے ۔ درود و سلام کی محفلیں سجانا اچھا (احسن ) عمل ہے ، عید میلاد النبی منانا یہ بھی اچھا عمل ہے لیکن اگر صرف انہی تک محدود رہا جائے اور آپکے باقی عقائد ایسے ہوجائیں کہ جس پر درود پڑھ رہے ہو اُس تک پہنچنے کا راستہ جو تم نے اختیار کر رکھا ہے وہ کہیں اور جا رہا ہو ، رب سے دوری کی طرف لے جا رہا ہو تو پھر آپ اُسی فتنے کا شکار ہیں ۔ بھلے آپ درود و سلام پڑھنے والے ہوں یا درود و سلام نہ پڑھنے والے ہوں اگر محمد الرسول اللہ تک نہ پہنچ پائیں ، اللہ تک نہ پہنچ پائیں تو آپ فتنے کا شکار ہوگئے ہیں ۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے کہا کہ
بمصطفیٰ بہ رساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست …… اگر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی است

محمدؐ کی محبت تعلیمات ِفقر اپنانے میں ہے :

میری یہ بات ، یہ پیغام تمام علماء کیلئے ہے خواہ وہ مصطفوی انقلاب لانا چاہتے ہوں ، خواہ وہ نظامِ شریعت لانا چاہتے ہوں ، خواہ وہ خلافت کا قیام چاہتے ہو ۔ بمصطفیٰ بہ رساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست … اگر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی است ۔ کہ تو محمد الرسول اللہ تک رسائی حاصل کرلے کیونکہ ذاتِ محمد سراپا دینِ اسلام ہے ۔ یہ منزل کا پتہ ہے ، یہ ہدایت کا راستہ ہے ۔ اِس میں صرف درود و سلام پر اُمت کو نہیں ٹرخانا ، صرف داڑھی رکھنے پر اُمت کو نہیں ٹرخانا ، صرف عمامہ باندھنے کو محبت نہیں کہتے ، داڑھیوں کو بڑھانے کو محبت نہیں کہتے ، گوشہء درود بنا لینے کو محبت نہیں کہتے ہیں ، گوشہء درود ہو یا نہ ہو درود کسی بھی مقام پر بیٹھ کر پڑھا جاسکتا ہے ، قرآن بھی پڑھا جا سکتا ہے ، نماز بھی ہوسکتی ہے ۔ ایسی بلڈنگ بنانا جس میں بیٹھ کر درود پڑھا جائے یہ اسلام پر کوئی احسان نہیں ہے ، نہ ہی یہ شریعت کی کوئی ضرورت ہے ، نہ محمد الرسول اللہ نے آغوشِ درود بنایا تھا ۔ وہاں ایک چبوترا تھا جہاں کچھ لوگ بیوی بچوں ، ماں باپ ، دنیاداری اور سب کچھ چھوڑ کر بیٹھے تھے ۔ انکے بال مٹی میں اٹے ہیں ، کپڑوں میں غلاظت ہے ، بدبو آ رہی ہے لیکن وہاں وحی بھی آجاتی ہے کہ ’’اے محمد اپنے نفس کو اس گندگی کا صابر بنا لیجئے اور انکی ظاہری گندگی پر نہ جائیے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو صبح و شام تیرے رب کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں ‘‘ ۔ یہ کام تو ابو بکر بھی کرتے تھے لیکن حضورؐ کو انکے پاس بیٹھنے کیلئے صبر کی تاکید نہیں کی جبکہ اُس چبوترے پر چھت بھی نہیں تھی ۔ درود و سلام پڑھنا بہت اچھی بات ہے لیکن درود و سلام پڑھنے سے کوئی محمد الرسول اللہ کی ذات تک نہیں پہنچتا ، یہ ایک عمل ہے ۔ نہ جانے اِس امت کو کیا ہوگیا ہے ؟ آج کے دور میں مولویوں کی بات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور محمد الرسول اللہ کی احادیث کو اہمیت نہیں دی جاتی ۔ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ’’ جو محمد کی محبت چاہے ، وہ تعلیماتِ فقر کو اپنا لے کہ محمد کی محبت تعلیماتِ فقر سے جڑی ہوئی ہے ‘‘ ۔ اور کیوں نہ ہو ۔ آپ نے ایک اور حدیث میں بھی یہ فرمایا کہ

الْفَقْرُ فَخْرِی وَ بِہِ اٗفْتَخِرُ عَلَی سَا ئِرِ الاْ نْبِیَا ئِ وَ الّمُرْ سَلِینَ
(بحار الاانوار ، جلد 29، صفحہ 231۔ خطبہ حضرت زہرہ علیھا السلام، معروف بہ خطبہ فدکیہ)
ترجمہ: کہ فقر میرا فخر ہے فقر مجھ سے ہے اور میں فقر سے ہوں ۔

اسکا مطلب ہوا کہ تعلیماتِ فقر کسی اور نبی کو عطا نہیں ہوئیں ۔ فقر کی تعلیمات محمد الرسول اللہ لیکر آئے ۔ اُمت کو اس طرف کیوں نہیں لیکر جاتے ہو ؟ درود و سلام پڑھنا تو مشکل کام نہیں ہے ، لکھا ہوا ہے ، کوئی بھی درود و سلام پڑھ سکتا ہے ۔
ہم نے ایک انڈین فلم دیکھی ، نام یاد نہیں ہے ، اس میں نانا پاٹیکر اداکار ہے ، اس نے مسلمانوں کو للکارتے ہوئے کہا کہ تم سمجھتے ہو کہ ہم محمد الرسول اللہ کی تعظیم نہیں کرتے ، محبت نہیں کرتے ، مجھے بھی درود شریف آتا ہے ، میں بھی پڑھ کے سناتا ہوں ’’اللھم صل علی محمد و علی آلِ محمد کما صلیت علی ابراہیم واعلی آلِ ابراہیم اِنک حمید مجیدہ‘۔ ایک ہندو نے بھی فلم میں درود پڑھ لیا ، یہ کونسا مشکل کام ہے ؟ مصطفی کا انقلاب لانا چاہتے ہو تو مصطفی کی بات کیوں نہیں مانتے ؟ مصطفوی انقلاب ایسے نہیں آئیگا کہ جو محمد الرسول اللہ نے فرمایا اسے پس ِ پست ڈال دو اور جو قائدِ تحریک نے فرمایا اُسے اپنالو ۔ لہذا گزشتہ تیس بتیس سال سے مصطفوی انقلاب کے نعرے لگ رہے ہیں ، ابھی تک نہیں آیا ۔ لیکن جب مصطفی اس دنیا میں آئے تھے تو تئیس (23) سال میں انقلاب لے آئے تھے ۔ آپ مصطفوی انقلاب لا رہے ہیں ، مصطفی بھی آپ کیساتھ ہیں تو پھر انقلاب کہاں ہے ؟ آپ انگلی کا اشارہ کرتے ہیں آسمان پر محمد لکھا جاتا ہے ، دلوں کے اوپر اشارہ کر کے محمد کیوں نہیں لکھ سکتے ؟ چلو مان لیتے ہیں آپ نے نہیں کیا ، آپ کر بھی نہیں سکتے ۔ یہ اللہ کی طرف سے ہوا ہے ۔ آپ یہی کہتے ہیں ہم تو یہاں بیٹھے ذکرِ مصطفی کر رہے تھے ، ہم تو میلاد منا رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ اے انسانو ! تم کیا میرے حبیب کا میلاد مناؤگے ، میں آسمان پر لفظِ محمد نقش کر کے اسکے میلاد منانے کی خوشی کر رہا ہوں ‘‘ ۔ یہ آپ ہی کے جلسے میں کیوں ہوا ؟ باقی لوگ بھی تو محمد الرسول اللہ کا میلاد منا رہے تھے ، محمد الرسول اللہ تو رحمۃ اللعالمین ہیں ، پڑوس کے جلسے میں جو ہوا کیا وہاں انکی رحمت سوئی ہوئی تھی ؟ آپکے جلسے میں اللہ نے محمد الرسول اللہ کا نام آسمان پر لکھا ہے تو آپکی برکت کے طفیل اللہ میاں آپکے لوگوں کے دلوں پر کیوں نہیں لکھتے ؟ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ آپ نہیں لکھ سکتے لیکن آپکے وجودِ مسعود کی برکت سے آسمان پر لفظ محمد لکھا گیا ، آپکے اس جسمِ نازنین کی برکت سے آپکے ماننے والوں کے سینوں پر کیوں نہیں لکھا گیا تاکہ دائمی عید میلاد النبی منایا جاتا رہے ؟ یہ کام آپکے بس کا نہیں ہے ، یہ کام بحدیث ِ محمد تعلیماتِ فقر کے حصول سے ہوتا ہے ۔ آپ صرف درود و سلام پڑھ سکتے ہیں ، اُسکی تلقین کرسکتے ہیں ۔ جن لوگوں کے سینے اِس تعلیماتِ فقر سے مزیّن تھے ، جو سلسلہ بہ سلسلہ فقر کے عظیم سوداگر بنے ، سلطان حق باہو جیسے لوگ ، سائیں سہیلی سرکار ، لعل شہباز قلندر جیسے لوگ ، شیخ عبدالقادر جیلانی جیسے مرد ، انکی تعلیمات کا بیان کیوں نہیں کرتے ، انکی تلقین کہاں ہے ؟ اس پر عمل پیرا کیوں نہیں ہیں آپ ؟ اسلئے نہیں کہ انکی تعلیمات روحانی ہیں ۔ وہ تعلیمات مدرسے میں پڑھ کر یا پھر پنجاب یونیورسٹی میں پڑھ کر گولڈ میڈلسٹ کو نہیں ملتی ، وہ تعلیمات اسکو ملتی ہیں جسکا سینہ صاف ہوچکا ہو ۔ وہ تعلیمات یونیورسٹیز میں گولڈ میڈلسٹ بننے سے نہیں ملتی ، نہ وہ لاء پڑھنے سے ملتی ہیں ، وہ تعلیمات اسکو ملتی ہیں جسکا سینہ صاف ہو ، جسکا قلب صاف ہوجائے اور جسکو وہ چاہے ۔
جس طرح علامہ اقبال تھے ، جو واقعہ انکے بارے میں مشہور ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید وہ ازلی مومن نہیں تھے ۔ انکے جو واقعات ہیں اُن سے محسوس ہوتا ہے (حتمی طور پر نہیں کہہ رہے ، ہم اپنی انڈرسٹینڈنگ بتا رہے ہیں) علامہ اقبال کے بچپن کا واقعہ ہے کہ ایک دن جب اسکول سے واپس آئے تو معمول یہ تھا کہ والد صاحب ان کیلئے پراٹھا بنا کر چلے جاتے تھے اور جب وہ اسکول سے واپس آتے تو پراٹھا کھا لیتے تھے ۔ ایک دفعہ اسکول سے واپس آ رہے تھے کہ ایک کتیا انکے پیچھے لگ گئی ، گھر تک پیچھے آئی ، آپکو بڑی بے حسّی سے دیکھ رہی تھی ۔ آپ نے سوچا شاید بھوکی ہوگی ، آپ نے وہ پراٹھا جو والد صاحب نے رکھا تھا اس میں سے آدھا پراٹھا کتیا کے آگے ڈال دیا ۔ وہ کھانے کے باوجود اسکی بے حسّی ختم نہیں ہوئی ۔ آپ نے پراٹھے کا دوسرا حصہ بھی اسکے آگے ڈال دیا ، وہ کھا کے چلی گئی اور علامہ اقبال بھوکے پیٹ سو گئے ۔ اسکے بعد انکے والد صاحب کو خواب میں بشارت ہوئی کہ تمہارا بیٹا ہمارا غلام ہوگا ۔ اسکے بعد چالیس سال کی عمر ہونے سے پہلے پہلے مولانا روم کو حکم ہوا کہ جاؤ اور انکو بیعت کرو ۔ ہمارے طاہر القادری صاحب فرماتے ہیں کہ پیر جماعت علی شاہ شرقپوری سے انکو فیض ہوا ، یہ بات جھوٹ ہے ۔ اگر اُن سے فیض ہوا ہوتا تو انکی داڑھی ہوتی ۔ پاکستان کا ایک علاقہ نارووال ہے جہاں ایک بزرگ پیر جماعت علی شاہ گزرے ہیں ۔ انکے جتنے بھی مرید تھے سب داڑھی والے تھے ۔ جو داڑھی والا نہیں تھا وہ نماز کیلئے پہلی صف میں ان کیساتھ کھڑا نہیں ہوسکتا تھا اور جو داڑھی والا نہیں ہوتا تھا اس سے وہ انفرادی طور پر نہیں ملتے تھے ۔ ایک دفعہ جب علامہ اقبال ملنے گئے تو انکے مریدوں کو کہا کہ میں حضرت صاحب سے ملنا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی انفرادی طور پر تو وہ آپ سے نہیں ملیں گے کیونکہ آپکی داڑھی نہیں ہے لیکن جب عوام الناس سے ملیں گے تو اس وقت آپ بھی مل لیجئے گا ۔ علامہ اقبال نے کہا کہ نہیں ، تم جا کر میرا نام تو بتاؤ کہو کہ اقبال آیا ہے ۔ جب انہوں نے سنا کہ اقبال آیا ہے تو باہر آگئے ، بڑے شوق اور تپاک کیساتھ ملے اور اندر لے گئے ۔ لوگوں نے کہا کہ حضرت انکی داڑھی بھی نہیں ہے اور آپ ان سے اتنے شوق سے مل رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ تمہیں نہیں معلوم ، انکے پیٹ میں داڑھی ہے ۔ بہت عزت اور احترام سے بٹھایا ۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ اقبال پہلے سے نسبت والے تھے ۔ اگر مرید ہونے کیلئے آتے تو یہ معاملہ نہ ہوتا ۔

انقلابِ مصطفی دلوں میں آتا ہے ، نہ کہ در و دیوار پر :

یہ گفتگو حسد کی بنیاد پر نہیں ہے کہ ہمیں مصطفوی انقلاب لانے والوں کیلئے چڑ ہو ۔ یہ بات خوشی کی ہے کہ مصطفوی انقلاب آئے ، یہ ہمارے قلب کی خواہش ہے لیکن تکلیف اور دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ نعرہ صرف زبان تک ہے ، ہوسکتا ہے کہ اِنکے دل کی آرزو بھی ہو کہ مصطفوی انقلاب آئے لیکن راستہ نہیں ہے ، وہ تعلیم نہیں ہے ، مصطفوی انقلاب کہاں لائینگے ؟ پاکستان میں ؟ در و دیوار پر ؟ زمین پر ؟ کیا پارلیمنٹ کی بلڈنگ میں لائینگے یا مدرسوں میں لائینگے ؟ انقلابِ مصطفی سب سے پہلے انسان کے قلب میں آئیگا ۔ جس طرح عیسائیوں کو حضرت عیسٰی علیہ السلام نے کہا کہ ’’میں خدا کی سلطنت قائم کرنے کیلئے آیا ہوں‘‘ ۔ عیسائی ابھی تک سمجھ رہے ہیں کہ خدا کی سلطنت قائم ہوگی ، تخت بچھے گا ، اللہ میاں آئینگے اور اس پر تشریف فرما ہوجائینگے جبکہ ایسا نہیں ہوگا۔

“خدا کی سلطنت کا قیام قلب میں ہوتا ہے ۔ اسی طرح مصطفوی انقلاب دل میں آتا ہے ۔ جب اس دل میں محمد الرسول اللہ آجائینگے تو یہی انقلابِ مصطفی ہے ”

کسی خطے میں انقلابِ مصطفی آئے گا تو کہاں آئے گا ؟ کیسی صورت میں آئیگا ؟ کیا مدینے میں انقلابِ مصطفی نہیں آیا تھا ؟ کیا محمد الرسول اللہ اپنے ساتھ انقلاب نہیں لائے تھے ؟ لائے تھے تو پھر وہ کہاں گیا ؟ وہابیوں کا قبضہ کیوں ہوگیا؟ معلوم یہ ہوا کہ وہ انقلاب مکے ، مدینے ، مسجد ِ نبوی یا کعبے کی عمارت میں نہیں آیا تھا ، وہ محمد کے دور میں رہنے والوں کے سینوں میں آیا تھا ۔ انقلابِ مصطفی عمارتوں میں نہیں آتا ، مدرسوں میں نہیں آتا ، انقلابِ مصطفی دلوں میں آتا ہے ۔ سیدنا گوہر شاہی نے دعویٰ تو نہیں کیا لیکن انقلابِ مصطفی بپا کر دیا ، جو بھی انکی چوکھٹ پہ آیا ۔ یہ انقلاب دلوں کا انقلاب ہے اور یہ انقلاب دلوں سے آتا ہے ۔ یہ بات ہم نے اخذ نہیں کی ، اس انقلابِ مصطفی کی نوید مصطفی نے خود دی ہے ۔ آپؐ نے فرمایا :

’’اے بنی آدم تیرے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ایسا ہے کہ اگر اسکی اصلاح ہوجائے تو پورے جسم کی اصلاح ہوجاتی ہے اور اگر وہ فساد میں مبتلا ہو تو پورا جسم فساد میں مبتلا ہے،یاد رکھ وہ تیرا قلب ہے ‘‘

تم عالم ، مولوی قرآن پڑھتے ہو ، قرآن نے جو لفظ ’مفسد‘ استعمال کیا ہے اسکو یہودیوں سے تعبیر کرتے ہو ۔ ہم کہتے ہیں کہ جب تک قلب کی اصلاح نہ ہو ، قلب فساد میں مبتلا ہو تو خواہ وہ مسلم ہو ، ہندو ہو ، یہودی ہو ، عیسائی ہو وہ مفسد ہے ۔ قرآن کہتا ہے لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ ایسے لوگوں کو تبلیغ کیلئے نہ لیکر جاؤ جنکے دلوں میں فساد ہو ۔ زبان کا فساد ایک طرف ، سب سے بڑا فساد قلب کا ہے ۔ یہ فساد اس وقت نکلے گا جب قلب میں نور داخل ہوگا ۔ اس کیلئے کوئی ایسی ہستی آئے جو اپنی نظروں سے آسمان پر نہیں بلکہ دلوں پر لفظ اللہ اور محمد نقش کرنے کی صلاحیت ِ باطن رکھتی ہو ۔ لوگ وہ طریقہ اختیار نہیں کرتے جو طریقہ صراطِ مستقیم کاہے ، جو راہ ذاتِ محمد تک جاتی ہو وہ اختیار نہیں کرتے۔ احادیث اور قرآن ان تعلیمات سے بھرے ہوئے ہیں ،اسکی طرف نہیں آتے ، اپنی اختراع ، اپنی سوچ اور جو کچھ اپنے ذہن میں پک رہا ہے اسکو استعمال کرتے ہوئے مصطفی کا انقلاب کیسے آسکتا ہے ؟
سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ انقلابِ مصطفی کہاں آئیگا ؟ جس طرح یہ جاننا ضروری ہے کہ اگر جہاز اڑانا ہے ، منزل تک پہنچنا ہے تو لینڈ کہاں پر کرنا ہوگا ؟ آپ ائیر پورٹ کیوں جاتے ہیں ، اپنے گھر میں لینڈ کیوں نہیں کرتے ؟ اسلئے کہ آپکو معلوم ہے کہ جہاز گھر میں لینڈ نہیں ہوا کرتے ۔ اب یہی کہے جا رہے ہیں کہ جہاز لینڈ کرنا ہے جہاز لینڈ کرنا ہے لیکن آپکو یہ پتہ ہی نہیں کہ لینڈ کہاں ہوگا ، یعنی مصطفوی انقلاب کی بات تو کرتے ہیں لیکن آپکو یہ پتہ نہیں کہ مصطفوی انقلاب کہاں آئیگا ؟

“مصطفوی انقلاب تب آئیگا جب یہ دل مدینہ بن جائیگا ۔ جنکے دل مدینہ بن گئے جب وہ لوگ مدینے میں تھے تو انقلابِ مصطفی بھی تھا ، جب دلوں سے مدینہ نکل گیا تو مدینے میں انقلابِ مصطفی نہ رہا ۔ یہ تعلیماتِ گوہر شاہی ہیں ۔ ”

فتنہء وہابیہ ہو یا کوئی اور ہو ، اگر محمد الرسول اللہ یا اللہ سے دور کر دے تو وہ فتنہ ہی ہے ۔ہم نے یہ وہ الفاظ دہرائے ہیں جو عام فہم لوگ استعمال کرتے ہیں لیکن ان الفاظ میں نقص ہے۔ وہ نقص کیا ہے ؟ اللہ سے دور کرنا ، یہ بات اصولاً اس وقت کہی جا سکتی ہے جب کوئی اللہ کے نزدیک ہو ۔ اِسی طرح محمد الرسول اللہ سے دور کرنا ، یہ بات اس وقت کہی جائیگی جب کوئی محمد الرسول اللہ سے نزدیک ہو ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اللہ اور محمد سے کسی کو دور کر دے کیونکہ جب تم محمد کے نزدیک ہوگے تو کیا محمدؐ سے زیادہ کوئی طاقتور ہے جو تمہیں محمدؐ سے دور کھینچے گا اور محمدؐ تمہیں نہیں بچائینگے ؟ اسی طرح یہ کہنا کہ لوگوں کو اللہ سے دور کردیا ۔ جو تمہیں اللہ سے دور کر گیا ، کیا وہ اللہ سے زیادہ طاقتور ہے ؟ نہیں ۔ یہ اصطلاح ہی غلط ہے ۔ صحیح چیز یہ ہے کہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر محمد الرسول اللہ کی راہ میں حائل ہونا ، کسی کو راہِ محمد میں روڑے اٹکانا کہ یہ وہاں تک نہ پہنچے ۔ یہ جان کر کہ یہ تو بہت ہی پہنچی ہوئی شخصیت ہے آپ کسی کیساتھ لگ گئے ، اسکی صحبت میں چلے گئے ، اسکی باتوں پر عمل کرنے لگے لیکن وہ راہِ فقر والا تھا ہی نہیں ، وہ راہ جو محمد تک لے جاتی ہے اس راہ کی اسکو خبر ہی نہیں تھی ، نہ اسکا قلب محمد کے قلب سے جڑا تھا ، نہ اسکا سینہ حضور کے سینے سے پیوستہ تھا ، وہ تمہارے اور محمد کے درمیان میں ایک دیوار بن گیا ۔ ایسے ہی علماء کیلئے قرآن نے کہا ہے کہ ’ ’یہ اس راستے کے ڈاکو ہیں جو رب کی راہ میں حائل ہوجاتے ہیں‘‘ ۔

“ہر وہ شخص رب کی اور محمد الرسول اللہ کی راہ میں حائل ہے جسکا باطن سیاہ ہے ، خواہ وہ وہابی ہو یا سنی ہو ، خواہ وہ تبلیغی جماعت کا عالم ہو یا وہ منہاج القرآن کا پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری ہو یا وہ دعوتِ اسلامی کا امیر محمد الیاس قادری ہو یا وہ کسی اور تنظیم کا سربراہ ہو ، اگر باطن سیاہ ہے تو پھر آپ عالمِ حق نہیں عالمِ شرار ہیں ، آپ ابلیس کے خلیفہ ہیں اور جسکے سینے میں مصطفی رہتے ہیں وہ محمد الرسول اللہ کا خلیفہ ہے ”

سرکار امام مہدی گوہر شاہی فرماتے ہیں کہ’ ’جسکے سینے میں محمدؐ رہتے ہوں ایسے عالم کی طرف پشت کرنا بھی گناہ ہے۔‘‘ حضور پاک نے خود فرمایا علماء من صدری کہ میرے علم کے عالم وہ ہیں جنکو میرے سینے سے نسبت ہو ۔علماء ان باتوں پر گفتگو کیوں نہیں کرتے ؟ کہاں ہے انکا علم ؟ طاہر القادری صاحب کا علم کیا کہتا ہے ؟ محمد الرسول اللہ کی بات زیادہ مستند ہے یا آپکی بات زیادہ مستند ہے ؟ آپ بہت حوالے دیتے ہیں کہ سنن ابو دائود ، ترمذی ، ابنِ ماجہ ، بخاری شریف ، مسلم شریف میں یہ لکھا ہے ۔ یہ حدیث جو ہم نے بیان کی ہے ان تمام حدیثوں میں سے ہے ۔ آپ اسکو اختیار کیوں نہیں کرتے ؟ یہ دلوں کا فساد کیوں نہیں نکال دیتے ؟ دلوں پر اللہ نقش کیوں نہیں کردیتے ؟ انقلابِ مصطفی سرزمین پر نہیں دل میں آنا چاہئے ۔ کیا آپکے پاس اس دل کا دروازہ کھولنے کا طریقہ ہے ؟
وہابی فتنہ ایک گروہ سے شروع ہوا اور اب اس نے پورے اسلام کو لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ چہرے بدل گئے ہیں ، نام بدل گئے ہیں ، وہابی سنی شیعہ یہ سارے اب نام رہ گئے ہیں ، اندر اگر کھودیں تو چوہا ہی نکلے گا ۔ جب آپ انکا باطن دیکھیں گے تو آپکو ہر شخص کالا نظر آئیگا ۔ اب اگر کالا ہے تو پھر رب سے دور ہے بھلے وہ گستاخیء رسول زبان سے کرتا ہو یا ایسے شخص کی راہ میں کھڑا ہوجائے جو محمد اور اللہ کی تلاش میں نکلا ہو ، اور اسکو آگے بڑھنے نہ دے ۔دوسری بات یہ ہے اللہ کو اور رسول اللہ کو پریشان ہونا چاہئے کہ اتنا فتنہ پھیل گیا اب کیا ہوگا ، میری مخلوق کہاں جائیگی ؟ جب ان سے پوچھیں کیا آپ پریشان ہیں تو کہتے ہیں کہ نہیں ہم پریشان نہیں ہیں ۔ بھئی آپ پریشان کیوں نہیں ہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم پریشان اسلئے نہیں ہیں کہ ان فرقوں میں ، ان فتنوں میں صرف وہی لوگ پڑینگے جنہوں نے دنیا طلب کی تھی ۔ جو ایمان کے سوداگر ہیں ، جو ایمان کے طلبگار ہیں وہ ان فتنوں کا شکار نہیں ہونگے تو ہمیں فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ وہابی سنی شیعہ وہی بنے گا جو مومن نہیں ہوگا ۔ جو مومن ہوگا وہ کہے گا’ ’امتی ہوں بس تمہارا یا رسول اللہ ‘‘۔
ہماری یہ گفتگو خاص طور پر مسلم امت کیلئے ہے جو اس وقت سایوں کے تعاقب میں ہے ، اس امت ِ مسلم کیلئے ہے کہ جنکے دل برباد ہوچکے ہیں ۔ اب یہ عید میلاد النبی کی کاوشیں ، یہ جلسے ، یہ درود و سلام ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ نے کسی میت کو خوبصورت لباس پہنا دیا ہو ، عطر لگا دیا ہو ، نئی پوشاک پہنا دی ہو لیکن وہ چلنے اٹھنے بیٹھنے کے قابل نہ ہو ۔ زبان سے پڑھا ہوا یہ درود و سلام زبان تک ہی محدود ہے ۔ محبت کا دعویٰ تو ہے لیکن مقامِ محبت جو کہ دل ہے وہاں محمد الرسول اللہ کا قیام نہیں ہے ۔ دلوں کو محمد الرسول اللہ کی آمد سے منور کرنا ہے ۔ محمد الرسول اللہ اس دنیا میں آئے ، کچھ نے انکے آنے کی خوشی منائی ، کچھ نے نہیں منائی لیکن آپ یقین جانئے محمد الرسول اللہ جس جس کے دل میں آئے ، آنے کے بعد سے لیکر اب تک وہ خوشی ہی میں ہے ۔ ’’محمد الرسول اللہ کی دنیا میں آمد مرحبا‘‘ پھر بھی گارنٹی نہیں ہے کہ تم جہنم میں جاؤگے یا جنت میں لیکن ’’محمد الرسول اللہ کی تمہارے دل میں آمد مرحبا ‘‘ پھر مرحبا ہی مرحبا ۔ یہی پیغامِ امام مہدی سیدنا گوہر شاہی ہے ۔

مندرجہ بالا مضمون 7 فروری 2012 کی نشست سے اخذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس