کیٹیگری: مضامین

مندرجہ زیل متن نمائندہ مہدی سیدی یونس الگوھر کے لائیو خطاب میں کیے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ:
عمران متی لاہور پاکستان، کا سوال: قیامت کے بعد اور یوم محشر کے بعداللہ کے پاس امر کن کی جو طاقت ہے کیا وہ ختم ہو جائے گی یا اس کو معطل کر دیا جائے گا؟

امر کن کی وضاحت:

اللہ کی ایک صفت وہاب ہے ۔ وہاب کا مطلب ہے جس کو وہبی طور پر کچھ عطا ہوا ہو۔لفظ وہب اور کسب ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ کسب کے معنی محنت اور وہب کے معنی بغیر محنت کے ہے۔کسب سے کمانے کا مطلب جو کچھ آپ نے اپنی محنت سے حاصل کیا ہو ، وہبی طور پر ملنے کا مطلب ہے کہ بغیر محنت کیے مل جائے۔اسی طرح اللہ وہاب ہے کا مطلب ہے کہ اسے بھی کوئی طاقت وہبی طور پر عطا ہوئی ہے۔ اللہ کو طاقت عطا کرنے والی ذات یقینااللہ سے بالا تر ہو گی۔ اللہ کو رب الارباب نے ’’ امر کن ‘‘ کی طاقت وہبی طور پر عطا کی جس کی بناء پر وہ وہاب کی صفت سے متصف ہوا ۔ اللہ کی تما م طاقت کا راز اسی ’’کن‘‘ میں بند ہے ۔ وہ جب چاہتا ہے اور جو چاہتا ہے ’’کن‘‘ کہہ کر کر لیتا ہے۔اسی ’’کن‘‘ کی طاقت سے اس نے یہ جہان اور مخلوق بنائی ہے۔اللہ کو امر کن کی طاقت اپنے رب ، رب الارباب سے حاصل ہوئی ہے۔

یوم محشر کے بعد کیا امر کن کی طاقت ختم ہو جائے گی ؟

یہ جو دنیا اللہ نے بنائی ہے یہ اس کے بہت سارے کاموں میں سے ایک (Adventure)ہے۔سب سے پہلے ہمیں اس بات کا تخمینہ لگانا ہے کہ جب اللہ کو ’’امر کن‘‘ کی طاقت دی گئی تھی تو اسوقت کیاسوچ کر امر کن کی طاقت دی گئی اور کیا سوچ کر امرِ کن کی طاقت لی گئی ۔ مثال کے طو ر پر جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں تو آپ ان کو جیب خرچ دیتے ہیں اور جب جوان ہو جاتے ہیں تو دو چیزیں ہیں یا تو آپ کہتے ہیں کہ جاؤ ڈھونڈ لو ۔ یا پھر آپ کوئی کاروبار کروا کر دے دیتے ہیں۔ اسی طرح مالک الملک امام مہدی گوھر شاہی نے بہت سے لوگوں کو کشف اور دم درود کی ڈیوٹی پر لگایا۔ اور ان میں سے کچھ لوگوں کو یہ کہہ بھی دیا کہ اگر دم درود والے تمھیں اگر کچھ نذرانہ وغیرہ دیں تو لے لینا باقی مرضی ہے تمھاری۔ انہوں نے پوچھا تھا تو فرمایا لے لیا کرو ۔ لیکن سب کو اس کی اجازت نہیں تھی۔
اسی طرح رب الارباب نے عالم غیب (جہاں اللہ کی برادری مقیم ہے ) میں ہر اللہ برادری کے فرد کو ایک بڑی جاگیر کے طو ر پر عطا کر دی ۔ اب یہاں جاگیر کا مطلب سمجھنا ضروری ہے۔ ایک جاگیر یعنی اُن کو اس کا قبضہ دے دیا ۔ یہ جگہہ تمھاری ہے ہم نے تم کو دے دی ہے۔ اور وہ جاگیر اتنی بڑی ہے کہ پوری دنیا بھی اس میں سما جائے تو پتہ نہ چلے۔ لہذا اسطرح یہ ان کا اپنا گھر کہلایا ۔ جیسے آپ کو ورثے میں کوئی جائیداد مل جائے اب وہ آپ کی ملکیت ہے۔ اسی طرح ہر اللہ برادری کے فرد کورب الارباب نے وہ جاگیر عطا کی ۔ اب رب الارباب نے اُن کا جو اپنا علاقہ ہے ،ویسے تو سب کچھ انہی کا ہے۔ یعنی اپنے سے مراد وہ جگہہ جہا ں کسی اور کا داخلہ نہیں ہے۔ مقام خلوت کہہ لیں اسے ۔ ایک دائرہ ایسا ہے اس میں بغیر اجازت کے آنہیں سکتے ۔اس میں رب الا رباب نے مختلف نو مخلوقات بنائیں۔ خدمت کے لئے ، جیسا مزاج ویسی مخلوقیں ۔ رقص کیلئے ، خدمت کیلئے ، گانے کیلئے ، دل لبھانے کیلئے ۔ تو جن اللہ برادری کے افراد کی یہ خواہش ہوئی کہ ہمارے لئے بھی کوئی خدمت گزار ہو تو وہ وہاں (مقام خلوت )سے تو نہیں آ سکتا ۔ لہذا پھررب الا ربا ب نے ان کو’’ امر کن‘‘ کی اجازت دے دی جس نے مانگی ۔ پھر انہوں نے وہاں اپنے مزاج کے مطابق اپنی خدمت کیلئے مخلوقیں بنا لیں ۔

امر کن کا عطا ہونا خالق ہونے کی دلیل نہیں:

’’امر کن‘‘ کا حاصل ہونا کسی کو خالق نہیں بناتا۔جو بات ’’امر کن‘‘ میں ہے وہی ملی جلی بات جنت کے باسیوں کیلئے بھی قرآن میں کہی گئی۔ کہ جنت میں نفس جو خواہش کریں گے وہ چیز اُن کو مل جائے گی ۔ اور یہ جو چیز’’ امر کن ‘‘ میں ہے جو آپ کہیں گے وہ ہو جائے گا ۔اگر امر کن سے آپ مخلوق بنائیں تو آپ نے بنائی نہیں ہے ،آپ نے کہا ہے کہ ایسا ہو جائے ، اس کو پورا کرنے والی ذات مالک المک گوھر شاہی ہے۔ آپ نے تو صرف ’’کن‘‘ کہا ہے کہ ایسا ہو جا ، اور وہ ہو گیا ۔ یہ چیز آپ کو خالق تو نہیں بناتی ۔ مثال کے طور پر آئی فون ہے اس کے اندر ایک سافٹ وئیر ہے سری (Siri) اس سے آپ جو پوچھیں گے وہ اس کا جواب دے دی گی۔ آپ نے تو صرف کہا ہے اور وہ ساری معلومات سامنے آ گئیں۔ اب آپ بتائیں کیا یہ آپکا کارنامہ ہے؟ جس نے ایجاد کیا ہے یہ تو اس کا کارنامہ ہے۔ اسی طرح رب کہتا ہے ’’کن‘‘ فیکون تو وہ ہو جاتا ہے۔کون کر رہا ہے اس کا تو ذکر ہی نہیں ہے۔ تو بنیادی طور پر’’ امر کن‘‘ عطا کرنے کا جو مقصد تھا کہ وہ اس کی مدد سے وہ ساری خواہشات پوری کرلیں جو ان کے دلوں میں اُبھرتی ہیں۔
رب الا رب نے ان اللہ برادری کے افراد کے بلایا دعوت پر انہوں نے دیکھ لئے ہیں رنگ ریاض الجنہ کہ ، اب خواہشات امڈ کر آ رہی ہیں، میرے بھی کوئی پاؤں دبائے ۔ کیونکہ اگر آپ واقعی عالم غیب چلے جائیں تو آپ کا بھیجہ ضائع ہو جائے گا ۔ یعنی اگر آپ بیٹھے ہیں اور آپ کو پیاس لگی تو وہاں پر کوئی مخلوق آپ کیلئے پانی لے آئے گی ۔ کہنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یعنی عالم غیب میں جو آپ سوچیں گے ویسا ہو جائے گا۔ تو بنیادی مقصد جو تھا وہ یہ تھا کہ ان اللہ برادری کے افراد کو اتنی بڑی بڑی جاگیریں دی ہیں۔اور یہ وہاں پر اکیلے ہیں تو اپنے شغل میلہ کیلئے ، یوں سمجھ لیں کہ ان کو ایک بٹن دے دیا ۔ ایسی مخلوق چاہیے تو یہ بٹن دبا دینا،اورایسی مخلوق چاہیے تو یہ دبا دینا۔ اب بجائے بٹن دبانے کہ وہی کہنا ہے۔ اسی طرح طاقت رب الا رباب کی ہے لیکن جسطرح کا تخیل اور سوچ اللہ کے ذہن میں آئی ویسی مخلوق بن گئی ۔آج اگر اس مخلوق میں نقص ہے ، یہ بول نہیں سکتی ، یہ چل نہیں سکتی تو اس میں قصور اس طاقت کا نہیں ہے۔ قصور اللہ کے تخیل کا ہے جو اس نے کہا وہ ہوا ۔ یعنی اس کی تدبیر کا جو مادہ ہے وہ اس سے بہتر ہوتا تو یہ اللہ جو سوچتا ویسی مخلوق بنتی ۔ تو امر کن دینے کا جو بنیادی مقصد تھا یہ جو ان کو اپنے جہان دئیے ہوئے ہیں ان کے اندر اپنے شغل میلہ کے لئے جس مخلوق کی ضرورت ہو گی تو یہ ’’کن ‘‘ کہیں اور وہ مخلوق ہو جائے گی ۔جسطرح جنت کیلئے اللہ نے کہا ہے کہ جس چیز کی نفس خواہش کریں گے وہ ان کو مل جائے گی ۔ اسی طرح ’’امر کن ‘‘ کے عطا ہونے سے یہ خالق نہیں بنتے ۔
اب اللہ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ میں یہاں عالم غیب سے باہر جا کر مخلوق بناؤں ۔ عالم غیب میں جہاں اللہ کا جہان تھا، جہاں رہتے تھے وہاں اپنے جہان میں بھی اللہ نے مخلوق بنائی تھی ۔یہ جبرائیل ، میکائیل ، اسرافیل اور عزرائیل یہ چاروں فرشتے وہیں عالم غیب کے ہیں ۔ اور یہ جو حوریں ہیں یہ بھی اللہ کی خدمت گزار ہیں ، عالم غیب کی ہیں وہاں پر خدمت پر مامور تھیں۔یاد رہے کہ اللہ نے جو عالم غیب میں مخلوق بنائی وہ صرف خدمت کیلئے تھی۔ اور عالم غیب سے باہر آکر جو مخلوق بنائی وہ عبادت کیلئے بنائی تھی۔

کیا حوریں اللہ کی عبادت کر سکتی ہیں؟

اب اگر کسی مولوی سے یہ سوال پوچھیں کہ کیا وہ جو حوریں ہیں وہ عبادت کرتی ہیں؟ کیا وہ حوریں اللہ کو سجدہ کر سکتی ہیں وہ تو عالم غیب کی ہیں؟ ان کو تو خدمت کیلئے بنایا تھا عبادت کیلئے تو نہیں بنایا تھا ۔کیا طاہر القادری سمیت کسی مولوی کے پاس ثبوت ہے کہ حوریں بھی اللہ کی عبادت کرتی ہیں؟ ان حوروں کی فطرت میں تو خدمت ہے اور چونکہ حوریں عالم غیب کی ہیں اور وہاں ایسی مخلوقیں بنائی ہی نہیں جا سکتی جو عبادت کر ے ۔ ایسی مخلوق چاہیں بھی تو نہیں بنے گی کیونکہ وہاں حکم تو رب الارباب کا چلتا ہے، وہاں کسی اور کو سجدہ نہیں ہو سکتا۔اب وہ عالم غیب میں مخلوق بھی امر کن کے زریعے ہی معرضِ وجود میں آئی ۔ انہوں نے ایسا کہا کہ ایسا ہو جا تو ایسا ہو گیا ۔لیکن اس عمل سے یہ ثبو ت نہیں ملتا کہ خالق بھی اللہ ہے۔ انہوں نے صرف کہا ایسا ہو جا تو ایسا ہو گیا۔ جسطرح جنت میں نفس خواہش کریں گے اور وہ چیز سامنے ہو گی تو کیا جنتی خالق ہو جائے گا؟ ہر گز نہیں ۔ آپ کو یہ دیکھنا ہو گا کہ کرنے والا کون ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ قیامت کے بعد کیا ہو گا۔کیونکہ اب یہ علم نیا نیا لوگوں کے پاس جا رہا ہے اس لئے لوگ اسطرح کے سوال بھی کر رہے ہیں ۔عالم غیب میں جس طرح اللہ نے بہت ساری خدمت گزار مخلوقیں بنائیں اسی طرح یہاں اس دنیا میں بھی مخلوقیں بنائیں ۔ حدیث قدسی میں آیا کہ

کنت ھاھوت ، کنزاََ یاھوت مخفیاََ لاھوت فاردت ملکوت ، ان اعرف جبروت فخلقت الخلق ناسوت ۔
ترجمہ -: میں لاہوت میں چھپا ہوا خزانہ تھا ، میں نے چاہا کہ پہچانا جائوں ، پس میں نے ملکوت کا ارادہ کیا ، تاکہ میری جبروت پہچانی جائے پس میں نے عالمِ ناسوت میں مخلوق کو پیدا کیا ۔

جب یوم محشر کے بعد جہنم والے جہنم میں چلے جائیں گے، جنت والے جنت میں چلے جائیں گے۔ سارے انبیاء کرام بھی چھٹے درجے کی جنت میں چلے جائیں گے۔پھر اس کے بعد اللہ خود کیا کرے گا؟ وہ بھی عالم غیب میں واپس چلا جائے گا۔اب اس کے بعد یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ستر ہزار سال کے بعد اللہ واپس آئے گا اور جنت الفردوس والوں کو اپنا جلوۂ دیں گے اور پھر واپس عالم غیب چلے جائیں گے۔امر کن کے زریعے جو یہ مخلوق بنی ہے یہ تو ایک وصف ہے امر کن کا ۔ جب اللہ عالم غیب میں تھا اس وقت بھی ان کے پاس ’’امرکن‘‘ کی سہولت تھی اور اس کی مدد سے اللہ نے بہت کچھ بنایا۔ یہ جو قرآن میں آیا ہے کہ
ان اللہ علی قل شی قدیر۔۔۔۔کہ میں ہر چیز پر قادر ہوں۔ یہ صرف اسی دنیا کیلئے ہے عالم غیب کیلئے نہیں ہے۔اب عالم غیب کے اندر رب الا رباب نے اللہ کو جو جاگیر دی تھیں اس کے اند ر اِس دنیا سے کسی کو بھی لے جاسکتے ہیں ۔ لیکن اُس کیلئے اللہ تعالی کو زمین پر آنا پڑے گا۔زمین پر آ کر اپنا عکس لوگوں میں ڈالیں گے پھر لے کر جاسکتے ہیں۔زمین پر نہیں آئے تو کسی کو لے کر بھی نہیں جا سکتے۔تو یہ سارا کام یہیں پر رہ جائے گا عالم غیب کے باہر باہر ۔
اللہ تعالی بھی عالم غیب سے باہر آیا اور اپنی پہچان کیلئے مخلوق بنا دی ۔ اب جب واپس جانا ہے تو یہ سب یہیں پر رہ جائے گا۔لیکن اگر اللہ تعالی زمین پر آ جاتے اور چاہتے کہ کسی کو ضم کر کے اپنے عالم میں لے جائیں تو لے جاسکتے تھے۔ لیکن جس کو بھی لے کر جاتے ، وہ جو اللہ کی جاگیر کے اندر ہی مقید ہوتا ۔یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی دوسرے برادری والے کے جہان میں بھی جا سکے۔

’’ لیکن جس کو رب الارباب نے ضم کیا ہے ، وہ عالمِ غیب کے کسی بھی خطے میں چلا جائے ۔ کسی کی مجال نہیں کوئی اس سے سوال کرے۔اب رب الارباب نے جس کو جو چیز عطا کر دی ہے وہ واپس نہیں لیتے ۔ تو یہ جو اللہ کو امر کن کی طاقت رب الارباب نے دی ہے یوم محشر کے بعد بھی یہ ختم نہیں ہو گی‘‘

آج دنیا کو رب الارباب سیدنا را ریاض گوھر شاہی کا دیدار اور فیض میسر ہے لیکن لوگ بجائے اس سے کوئی فائدہ حاصل کرنے کے اسے کفر و شرک قرار دے رہے ہیں اور ایسے ہی منکرین کیلئے قرآن میں آیا کہ

وَالَّذِیْنَ کَفَرُوا بِآیَاتِ اللَّہِ وَلِقَائِہِ أُوْلَئِکَ یَئِسُوا مِن رَّحْمَتِیْ وَأُوْلَئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ
( سورۃ العنکبوت ، آیت نمبر 23 ، پارہ 20، رکوع 15 )
ترجمہ -: اور جنہوں نے اللہ کی نشانیوں اور اسکی ملاقات کا انکار کیا وہ میری رحمت سے نا امید ہوگئے اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں