کیٹیگری: مضامین

دل والے علم کی ناپیدگی :

محمد ﷺ کے دور میں دل والا علم چھپا ہوا تھا صرف خاص لوگوں کی اس علم تک رسائی تھی جو تھوڑی بہت روحانی سمجھ بوجھ رکھتے تھے ۔اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ دل والا علم صرف خاص لوگوں تک محدود تھا تو یہ کیسے پتہ چلتا کہ کون خاص اور کون عام ہے ؟ صرف محمد ؐ کے دور میں ہی یہ علم چھپا ہوانہیں تھا بلکہ عیسیٰ کے دور میں بھی ان کے خاص قریبی مریدین کو ہی اس دل والے علم کا ذائقہ چکھنے کا موقع ملا۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ

’’مجھے حضورؐ سے دو طرح کا علم عطا ہوا ایک بتاوٗں تو بہت خوش ہو گے اور دوسرا بتا دیا تو تم مجھے قتل کر دو گے‘‘

لہذ ا ابو ہریرہ نے بھی دل والے علم کی بابت عام لوگوں کو کچھ نہیں بتایا۔محمد ؐ کے بعد جن لوگوں نےیہ دل والا علم پا لیا وہ ولی کہلائے ۔پھرخدا نے انہیں اولیا کو مستحق روحوں کی ہدایت اور رہبری کے لئے مقرر فرمایا۔اولیا کرام نے اس دل والے علم کے بارے میں بات کی ہے لیکن وہ بھی خانقاہوں میں خواص تک ہی محدود تھا ۔ عوامی سطح پر انہوں نے بھی کسی کو اس علم کی بابت نہیں بتایا۔ان اولیا کرام نے بھی دل والے علم کی بابت بات کی ہے تو وہ بھی اشاروں اور پہلیوں میں کی ہے جس کو عام آدمی کو سمجھنا تقریبا نا ممکن تھا۔علامہ اقبا ل نے بھی کہا
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

اب اس شعر میں بھی اشارہ ہی ہے کوئی بات واضح نہیں ہو رہی کہ ایسا کونساعمل کیا جائے کہ ان ستاروں سے آگے کے جہاں میں بھی رسائی ہو جائےجو ابھی تک چھپے ہوئے ہیں۔عالم غیب کی باتیں جو میں کرتا ہوں وہ کیوں کرتا ہوں؟ بہت سے لوگ حیران ہوتے ہیں بہت سے لوگ پریشان ہو جاتے ہیں اور بہت سے لوگوں کو یہ خیال آتا ہے کہ بس سیدھے سیدھے ’’اللہ ھو‘‘ کی بات کرتے رہتے ۔ مجھے سرکار کی وہ بات بھی یاد آتی ہے سرکار سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے کئی مواقعوں پر فرمایا کہ مولوی مفتی ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ جو علم بیان کر رہے ہیں وہ علم بالکل ٹھیک ہے لیکن وہ خاصوں کےلئے ہے۔ اورآپ عام میں بتا رہے ہیں ۔تو سرکار سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے فرمایا کہ اچھا ایسا کرو مجھے تم لسٹ بنا کر دے دو کون خاص ہے اور کون عام ہے ۔پھر میں خاصوں کو ہی بتائوں گا۔اور آپ نے تشریح فرمائی کہ یہ جو زمانہ ہے اس زمانے میں یہ جو دل والا علم ہے لوگ اس سے آشنا کیوں نہیں ہیں ؟ فرمایا کہ مولوی تو ہر دور میں ہوتا ہے اور تسلسل کے ساتھ ہوتے ہیں ۔اسلئے کے یہ ظاہر ی علم کتابوں میں لکھا ہوا ہے تو اس کو پڑھ لیتے ہیں ۔کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ لیکن جو ولی ہوتا ہے وہ کسی کسی زمانے میں ہوتا ہے ۔
آپ مجھے یہ بتائیں آپ نے اپنی زندگی میں سرکار سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کے علاوہ کسی ولی کامل کو دیکھا ہے ۔ ولیوں کی جب بات ہوتی ہے تو ہم نے صرف مزاروں کا سُنا ہے اور وزٹ کیا ہے داتا صاحب، خواجہ صاحب اور غوث پاک۔ہم نے کیا اپنی زندگی میں داتا صاحب جیسی کوئی ہستی دیکھی ہے ؟ کیا غوث پاک جیسی کوئی ہستی دیکھی ہے ہم نے ؟ یہ سب یا تو کتابوں میں پڑھا ہے یا ہم ان کے مزارت پر چلے گئے ہیں ۔ اب مزار پر جانے سے کیا ہوتا ہے ۔ایک عقیدت ہے محبت ہے آپ فاتحہ پڑھ کر آ جائیں ۔ اب بزرگوں سے ملاقات تو نہیں ہوگی قبر کو یہ دیکھ سکتے ہیں ۔کتنا عرصہ گزر گیا ہے کوئی ولی نہیں آیا۔ علامہ اقبال کا انتقال 1938میں ہوا تھا اوراب تک ان کو انتقال ہوئے 80سال ہو چکے ہیں ۔انہوں نے جو شاعری کی وہ مرنے سے پہلے کی اور اس وقت انہوں نے کہا تھا
تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند
اب مناسب ہے تیرا فیض عام ہو ساقی

کون سے فیض اور کونسا ساساقی ؟ یہ حضور ؐ کی ذات کی طرف اشارہ ہے کہ یا رسول اللہ تین سو سال گزر گئے ہیں ہند کی سرزمین پر کوئی اللہ کے عشق کے جام پلانے والا نہیں آیا ۔تو اس وقت تین سو سال ہو گئے اور اب اسی نوے سال ہو گئے ہیں ۔ تو تقریبا چار سو سال ہو گئے ہیں ۔ ان چارسو سالوں میں نا تو کوئی ولی کامل آیا ہے ، اب ولی کامل نہیں آیا تو اس کی تعلیم کون دے گا ؟ لہذا جو معارفین، کاملین گزرے ہیں ، اولیا فقرا گزرے ہیں ، جس زمانے میں آئے تھے اس زمانے میں انہوں نے اس علم پر گفتگو کی ۔ اس علم سے لوگوں کو سرفراز کیا ۔اور پھر اس کے بعد چار سو سال کا عرصہ گزر گیا ہے ۔چار سو سال تک اگر دل والے علم پر گفتگو نہ ہو تو آہستہ آہستہ وہ علم لوگوں کی پریکٹس سے نکل جائے گا ۔ کتابوں میں تو موجود ہے تصوف کی باتیں لیکن عمل میں نہیں ہے ۔ اب اگر بزرگوں کا ذکر صرف قصے اور کہانیوں میں ہو تو ہم بڑا اچھا تصور کرتے ہیں ۔ پنجاب جانا ہوا تو وہاں نظام الدین اولیا اور ان کے مرید کے بارے میں ایک قوالی سنی ۔ اس قوالی کا متن ایک واقعہ تھا کہ ایک شخص جو ہے جوتیاں سر کے اوپر رکھ کر جا رہا تھا ۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ جوتیاں کس کی ہے جو تم نے سر پر رکھی ہوئی ہیں ۔تو وہ کہتا ہے کہ یہ جوتیاں اللہ کی ہیں ۔لوگ اس کی یہ بات سن کر پریشان ہو جاتے ہیں کہ یہ جوتیا ں اللہ کی کیسے ہو گئیں ، کیا اللہ جوتیاں پہنتا ہے ۔اب وہ جوتیاں موچی کے پاس لے گیا ۔موچی نے پوچھا یہ جوتیاں تو نے سر رکھی ہوئی ہے کس کی ہیں ؟ موچی تھوڑا بردبار اور سمجھدار آدمی تھا اس نے سوچا شاید اس کو گرمی میں پیاس لگ رہی ہے بھوکا ہے ۔ کھانا کھلا دوں پھر صحیح صحیح باتیں کرے گا۔موچی نے اسے کھانا کھلا دیا اور پھر پوچھا کہ اب بتائو جوتیاں کس کی ہیں ۔ وہ پھر کہتا ہے کہ جوتیاں تو اللہ کی ہیں ۔پھر موچی نے قاضی کو بلا کر اس کے حوالے کر دیا کہ یہ جوتیاں انسان کی ہیں اور یہ کہتا ہے اللہ کی ہیں ۔اب رش لگ گیا قاضی کھڑا ہوا ہے اسے سزا سنانے والا ہے ۔ اسی اثنا میں نظام الدین اولیا وہاں سے گزرتے ہیں اور قاضی صاحب سے پوچھتے ہیں کہ کیا ماجرا ہے ، کیا ہو رہا ہے؟ مرید بھی وہ انہی کا تھا۔ پھر قاضی صاحب نے کہا کہ یہ بندہ ہے جو کہتا ہے ، جوتیا ں انسان کی ہیں اور یہ کہتا ہے اللہ کی ہیں ۔تو نظام الدین اولیا نے کہا ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے ۔ قرآن میں ہے

لِّلَّهِ ما فِي السَّمَاواتِ وَمَا فِي الأَرْضِ۔
البقرۃ آیت2
ترجمہ : زمین اور آسمان میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کا ہے ۔

کیا یہ جوتیاں زمین و آسمان سے باہر ہیں ۔ اب ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں اور قوالیوں میں سنتے ہیں ۔ سننے کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن اس دور میں اگر کوئی یہ کہہ دے کہ میں گوہر شاہی کا کتا ہوں تو لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ۔حضور پاکؐ نے حضرت علی کو بو تراب کا خطاب دیا تھا جس کا مطلب ’’مٹی کا باپ‘‘ ہوتا ہے اب وہ مجھے یہ ثابت کریں کہ حضرت علی مٹی کے باپ ہیں تو ان کی بیوی کیا ہے؟ دوسرا ابو ہریرہ ، جس کا مطلب ہوتا ہے ’’بلی کا باپ‘‘ ۔ اب کہنے سے کیا وہ بلیوں کے باپ ہو گئے انہوں نے بلیوں کو جنم دیا ہے؟ یہ وہ لوگ ہیں جو روحانیت کی اصطلاحات سے بہر مند نہیں ہیں ۔ جن کے پاس علم ہی نہیں ہے استعارہ بھی نہیں سمجھتے ہیں ۔کتا جو ہے وہ ایک جانور ہے اور اس کی خوبی یہ ہے کہ وہ وفادار ہوتا ہے ۔ اور اس وفاداری کی خوبی کی وجہ سے لوگ اپنے آپ کو مختلف ہستوں کا کتا تصور کرتے ہیں ۔یعنی میں اپنے مرشد کا وفادار ہوں جیسے کتا وفا دار ہوتا ہے ۔ایک زمانہ بیت گیا کہ اولیا کرام کو آئے ہوئے۔ غوث اعظم کےلئے ان کے ادب میں ان کے نام کے ساتھ ’’سگ‘‘ لگاتے تھے ۔ سگ کا مطلب کتا ہوتا ہے ۔جیسے سگ جیلانی یعنی غوث اعظم کا کتا۔لیکن ان جہنم کے کتوں کو کون سمجھائے گا جن کا کام بزرگوں کا مذاق اُڑانا ہے ، ان پر کیچڑ اُچھالنی ہے ۔آج کا مسلمان اتنا جاہل ہے ، ان پڑھ ہے کہ قرآن کھول کر کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور اس پر ستم یہ کہ صوفی ازم اور تصوف کوشرک اور بدعت سمجھتے ہیں اور اس کو قران کا حصہ نہیں سمجھتے ۔صوفی ازم کوئی الگ مذہب تو نہیں ہے ۔ صوفی ازم تو قرآن مجید کی روح ہے ۔ لیکن اب قرآن مجید ان مسلمانوں کے پلے پڑے تو سمجھ میں آئے ۔اب آپ دیکھیں ہم روز آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ، روزآنہ حدیثیں سناتے ہیں ۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جب میں اپنی کسی بات کو بیان کرنے کے لئے قرآن یا حدیث سے حوالہ نہ دوں ۔ اسے کے باوجود بھی لوگ کہتے ہیں آپ اللہ کو نہیں مانتے ۔
یہ جو دل والا علم ہے اس لئے ناپید ہو گیا کہ اس کے Practitioner نہیں رہے ۔اب لوگوں نے دو سو ، چار سو سال سے یہی سنا ہے نماز پڑھنی چاہیے ، روزہ رکھنا چاہیے رمضان میں اور ذکوۃ دینی چاہیے اور حج کرنا چاہیے ۔ لیکن یہ نماز کس کے اوپر فرض کی گئی ہے اس سے بھی نا بلد ہیں ؟ یہ تو پتہ ہے کہ اب بارہ سال کی عمر ہو جائے تو نماز فرض ہو گئی ہے ۔ اب جس نے بھی یہ بارہ سال والی بات نکالی ہے اس نے یہ پتہ نہیں کیوں نہیں بتایا کہ نماز پڑھنے کےلئے مومن ہونا ضروری ہے ۔قرآن مجید میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ مسلمانوں کے اوپر نماز فرض ہے ، جہاں بھی لکھا ہے نماز کے بارے میں وہاں مومنوں کو ذکر ہے کہ ہم نے مومنوں کے اوپر یہ فرض کی ہے ۔اب مسلمان یہ کہتے ہیں کہ ہمیں نماز سے مت روکو۔ ہاں پڑھتے رہو،لیکن یہ یاد رہے اگر ایک آدمی دوائی سال بھر کھاتا رہے اور اس سے کوئی آرام نہیں آئے تو پھر دوائی بدلنی چاہیے نا ۔نماز کے بارے میں جب قرآن نے کہہ دیا

إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ
سورۃ عنکبوت 29ترجمہ : کہ نماز برائیوں اور بے حیائی سے روکتی ہے۔

اب یہ اللہ تعالی کا بیان ہے ۔ جوبات رب کی طرف سے آرہی ہے اس سے زیادہ کوئی بات بھروسہ مند نہیں ہو سکتی ۔ اس کے اوپر تو آپ شک نہیں کر سکتے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ کو کبھی یہ توفیق ہوئی کہ یہ دیکھ لیں کہ میں پانچ یا دس سال سے نمازیں پڑھ رہا ہوں ، کیا مجھ میں برائیاں کم ہوئی ہیں ؟ اگر برائیاں کم نہیں ہو رہی ہیں تو میری نماز میں کیا مسئلہ ہے؟ دوائی اگر کچھ دن تک کھائیں اور کوئی فرق محسوس نہ ہو تو فورا خیال آتا ہے کہ تبدیل کرنی چاہیے۔لیکن عبادتیں کر کر کے ماتھا کالا کر لیا ہے ، داڑھیاں بھی بڑھا لیں ۔ لیکن جیسے حرامی پہلے تھے ویسے ہی اب بھی ہیں۔نہ کسی برائی سے رکے ، نہ کسی فحاشی سے رکے ۔ اور پھر بھی سمجھ میں نہیں آیاکہ ہم نماز تو پڑھ رہے ہیں لیکن فائدہ کیوں نہیں ہو رہا ہے ۔نماز پڑھنے کا فائدہ اس لئے نہیں ہو رہا ہے کیونکہ آپ مومن تو بنے نہیں ہیں۔ یہی روزوں کا بھی حال ہے کہنے کو ہی کہ لوگ روزہ رکھتے ہیں ۔ اور اپنی اس حالت زار پر فکر نہیں ہوتی ۔پھر لوگ رب سے شکوہ کرتےہیں کہ ہم تو اتنے سالوں سے نماز پڑھ رہے ہیں، ہماری دعائیں قبول نہیں ہو رہی۔
میں بھی ایسی ہی نمازیں پڑھا کرتا تھا ایک دن خیال آیا کہ قرآن مجید میں تو لکھا ہے کہ جب آدمی سجدے میں جاتا ہے تو اللہ سے ملاقات ہوتی ہے ، گویا چپکے چپکے آپ رب سے باتیں کرتے ہیں ۔ تو میں سجدے میں جا کر اللہ تعالی سے پوچھتا تھا کہ آپ کا کیا حا ل ہے، کیسے ہیں ، کب آئیں گے ؟ جواب ہی نہیں آتا تھا ۔ اب سوچنا تو چاہیے کہ جب رب نے کہا ہے کہ جب سجدے میں جاتے ہیں تو رب سے باتیں ہوتی ہیں ۔ اور ایک دفعہ نماز پڑھتے ہوئی ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو ساری نماز بھول گیا میں اور کھجانے لگا ، نمازہی ٹوٹ گئی ۔ پھر مجھے خیال آیا کہ حضر ت علی کی ران میں تو نیزہ لگا ہوا تھا ،حضور ؐ نے کہا تھا کہ جب یہ نماز پڑھے تب نکالنا پتہ ہی نہیں چلے گا۔اور نماز کے دوران وہ نیزہ نکال لیا اور ان کو پتہ بھی نہیں چلا۔ تو پھر وہ نماز کونسی تھی اور یہ کونسی نماز ہے میں پڑھ رہا ہوں ۔کچھ نہیں پتہ ، کوئی نہیں بتا رہا کہ اب وہ نماز کیسے پڑھیں ۔

عوامی سطح پرعلم ِ تصوف کی ترویج:

پھر سرکار گوہر شاہی نے کرم فرما دیا ۔ پہلے خانقاہوں بیعت یافتہ مریدین میں سےکسی ایک آدھ کو کوئی راز دے دیا۔ عوامی سطح پر کوئی گفتگو نہیں کرنی۔سرکار سیدنا امام مہدی گوہر شاہی نے یہ پابندی ہٹا دی ۔ سوائے غوث اعظم کے عوامی سطح پر کسی نے تصوف کا ذکر نہیں کیا ۔ غوث اعظم جب خطاب کرتے تھے کیونکہ آپ کا مقام اور مرتبہ ایسا تھا ، آپ پیران پیر دستگیر ہیں ، سردار اولیا ہیں ، سارے ولیوں کے کاندھے پر آپ کا قدم ہے ۔ آپ مجمع سے خطاب کرتے ، کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا کہ آپ کے خطاب کے دوران ستر ستر ہزار کا مجمع ہوتا ۔تو غوث پاک نے عوامی سطح پر تصوف کا ذکر کیا ہے اس کے علاوہ جتنے بھی بزرگ آئے ہیں اس دنیا میں انہوں نے اپنی اپنی خانقاہوں میں مریدوں کے سامنے کچھ تھوڑا بہت بیان کر دیا۔ غوث پاک نے بھی اپنے مقام اور اپنی جگہہ پر بیٹھ کر خطابات کیئے ہیں ۔ لیکن سرکارسیدنا امام مہدی گوہر شاہی اپنی مجلس پوری دنیا میں اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں اور لوگوں کو منوانے کےلئے دو دو گھنٹے دلائل دئیے ہیں ۔اب لوگ کہتے ہیں کہ یہ دل اللہ اللہ کیسے کرتا ہے ، یہ درویشوں کا خیال ہے ، یہ گوشت کا لوتھڑا ہے۔ سرکار سیدنا امام مہدی گوہر شاہی نے فرمایا یہ زبان بھی توگوشت کا لوتھڑا ہے یہ زبان کیسے اللہ اللہ کرتی ہے ! پھر سمجھایا بھی کہ یہ زبان کا کمال نہیں ہے کہ تم اللہ اللہ کرتے ہو۔ پھر سمجھایا کہ وہ لوگ جو بول نہیں پاتے اور میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ اس کی زبان بالکل ٹھیک ہیں اب یہ بول کیوں نہیں رہا ہمیں سمجھ نہیں آتا۔اس کا بھی راز بتایا کہ اس زبان کو بلوانے کےلئے ایک مخلوق ہے جو سینے کے بیچ میں ہے جس کو لطیفہ اخفی کہتے ہیں ۔ اگر کسی کی وہ مخلوق میں نقص آ جائے تو زبان ٹھیک ہونے کے باوجود بھی بولتا نہیں ۔ اسی طرح اس دل کو بلوانے کےلئے بھی ایک مخلوق ہے جو دل کے اوپر بیٹھی ہے اسکا نام لطیفہ قلب ہے ۔دل کو اللہ اللہ کروانے کےلئے اس مخلوق کو بیدار کرنا پڑتا ہے ۔ کیا انداز مبارک ہے ۔سرکار سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کا جو لب ولہجہ ہے وہ ایسا ہے کہ آپ سنیں اور دل میں اتر جائے ۔
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

سرکار سیدنا امام مہدی گوہر شاہی نے پورے پاکستان میں بڑے بڑے شہروں سمیت چھوٹے چھوٹے پنڈ دیہات ، گائوں جا جا کر ، مشکل ترین سفر کر کے اس بات کو پوری دنیا میں پہنچایا ۔پورے پاکستان میں گئے ہیں ۔ سندھ ، پنجاب، سرحد ، بلوچستان ہر جگہہ گئے ہیں ۔انڈیا ، بنگلہ دیش ، دبئی ، عمان بھی گئے ، کینیا بھی گئے ، سائوتھ افریقہ بھی گئے پھر پورا یورپ کیا ۔ناروے بھی تشریف لے کر گئے ، سوئڈن بھی گئے ، ڈنمارک بھی گئے ، جرمنی بھی گئے ۔ آئرلینڈ کا بھی دورہ ہوا انگلینڈ کو سر کار سیدنا امام مہدی گوہر شاہی نے اپنا گھر قرار دے دیا ۔اور پھر فرمایا کہ امام مہدی کا ظہور یہاں سے ہو گا۔پھر فرمایا کہ یہ دنیا میں واحد ملک ہے جہاں مجھے اپنے پسینے کی خوشبو آتی ہے ۔پوری دنیا میں سرکار سیدنا امام مہدی گوہر شاہی نے سفر کیا اور یہ فرمایا کہ آج کا دور وہ ہے کہ اس علم کے ناپید ہونے کی وجہ سے اب پتہ نہیں چل رہا کہ عام کون ہے اور خاص کون ہے ! کیونکہ پہلے جو خاص ہوتے تھے ان کو جستجو ہوتی تھی ۔ وہ آ کر پوچھتے تھے کہ مجھے قلب کا ذکر چاہیے تو پتہ چل جاتا تھا کہ خاص ہے جب ہی تو ذکر ِ قلب کی تلاش میں ہے ۔لیکن اب جو خاص ہیں ان کو بھی پتہ نہیں ہے ۔کیونکہ چار سو سال سے اس دل والے علم کا تذکر ہ ہی نہیں ہوا تو پتہ کیا چلے گا ۔

آج کا مسلمان اللہ کے دیدار کا منکر کیوں؟

تو پھر سرکارسیدنا امام مہدی گوہر شاہی نے فرمایا کہ ہم نے یہ دل والے علم کی بات عام بیان کر دی کہ جو خاص ہو گا وہ اس میں شامل ہو جائے گا اور جو عام ہو گا اس کی سمجھ میں ہی نہیں آئے گا۔ہم نے جو اتنا عرصہ گزارا، کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا ، نہ نمازوں کی درستگی کا علم تھا ، نہ یہ پتہ تھا کہ اللہ راضی کیسے ہو گا؟ اللہ کا رسول کیسے راضی ہوگا ۔پھر سرکار سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے کر م فرما دیا ۔ پھر سرکار گوہر شاہی نے سینہ بھی منور کیا ، نفس کو بھی پاک کیا اور حضور ؐ کی مجلس میں بھی پہنچا دیا ، انبیا کی مجلس تک پہنچا دیا ۔ آج کے دور میں اگر کوئی عوامی سطح پر یہ باتیں کرے کہ میں نے حضور ؐ کو بھی دیکھا ہے ، عیسیٰ کو بھی دیکھا ہے ، میں نے اللہ کو بھی دیکھا ہے ۔ تو وہ یہ سن کر ہل جاتا ہے ۔اور کہتا ہے کہ ارے بھئی یہ کیسے باتیں کر رہے ہو ۔ آپ کتابیں اُٹھا کر دیکھیں امام ابو حنیفہ نے کہا کہ میں نے اللہ کو نناوے بار دیکھا ہے ۔ ابراھیم بن ادھم کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کو ستر بار دیکھا ہے ۔آج کے دور میں اگر کوئی یہ بات کرے تو لو گ کہتے ہیں کہ بھئی بس کرو کیسی باتیں کر رہے ہو۔کیونکہ ایک لمبا عرصہ ہو گیا وہ بزرگان دین نہیں آ رہے ۔ اب وہ ایک زمانہ تھا جب با یزید بسطامی نے کہا کہ ’’ میرا جھنڈا حضور ؐ کے جھنڈے سے بھی اونچا ہے ‘‘ جب بزرگان دین ہوتے تو روحانی کیفیات کا اظہار ہوتا تھا اور جو قاضی وغیرہ جو فتوی لگانے والے تھے ان کو بھی پتہ ہوتا تھا کہ یہ ولی ہے ، فتوی لگانے سے پہلے میں پوچھ لوں کہ یہ ماجرا کیا ہے ۔پھر جب وہ پوچھتے تھے تو اُن کو پتہ چل جاتا تھا کہ وہ لمحہ خاص تھا اور وہ وہ لمحہ تھا جس کے بارے میں حدیثوں میں آیا ہے کہ

’’ایک وقت ایسا آتا ہے کہ میں اپنے بندے کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ، میں اس کے پائوں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ، میں اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے‘‘

تو اس وقت با یزید نہیں بول رہا تھا بلکہ اللہ مخاطب تھا ۔ظاہر ہے اللہ کا جھنڈا حضورؐ کے جھنڈے سے اونچا ہے ۔یہ واقعات اس دنیا میں ہوئے ہیں لیکن آج کا جو مسلمان ہے اس کے اوپر دیو بندیوں کی سیاہی ، وہابیت کی کالک لگ گئی ہے اور اس نے حضورؐ کے نام لینے کو بھی بدعت اور شرک قرار دے دیا ۔حضور ؐ کی جالیوں کو بھی چومنا شرک اور بدعت قرار دے دیا ۔تو اب اس معاشرے میں کون اللہ تک پہنچے گا ۔
ہمارے اوپر سرکار سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے بڑا کرم فرما دیا ، حضور ؐ کا بھی دیدار ہو گیا اور بہت سے بزرگان دین کو بھی دیکھ لیا ، بہت سے انبیا کرام کو بھی دیکھ لیا ۔ اور پھر سرکار سیدنا گوھر شاہی کے طفیل اللہ کا بھی دیدار ہو گیا ۔سب ہمیں سارے مقامات کو دکھا دیا اور وہاں پہنچا بھی دیا ۔ پھر عالم غیب کا بتایا کہ یہ بھی ہوتا ہے ۔اگر سینہ منور ہونے سے پہلے بتاتے تو ہم انکار کر دیتے ۔ اب جب اللہ رسو ل تک پہنچا دیا اور ہمیں پتہ چل گیا کہ بھئی بڑی پہنچ ہےسرکار گوھر شاہی تو ۔اب یہاں پر پھنس گئے کہ جس نے اللہ کی ذات تک پہنچا دیا وہ جھوٹ تو نہیں بول سکتا ۔ اب ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بھی ہم کو گمراہ کررہے ہیں ۔بھئی جب دل میں اللہ بسا دیا ، اللہ سے ملوا دیا ، حضور کا دیدار کروا دیا ، اور حضور ؐ کا ایک طرح کا دیدار نہیں کرایا ہم نے بہت طرح کا دیدار کیا ہے حضور ؐ کا ، عالم ناسوت میں بھی کئی دیدار کیے ہیں حضور ؐ کے ۔ حضور ؐ کے تو کئی جسے ہیں لطیفہ نفس کہ جو کہ مدینے میں ہوتا تھا ۔ ایک لطیفہ نفس کا جسہ ایسا ہے جو کہ مریخ پر ہوتا تھا ، ایک لطیفہ نفس کا جسہ ایسا ہے کو کہیں اور ہوتا تھا ۔ پھر ہم کو بھی ’’اللہ ھو‘‘ دینے کی اجازت دے دی اور جب ہم نے لوگوں کو ذکر دیا تو وہ چل بھی گیا ۔اب یہ سب کچھ ہو گیا اس کے بعد عالم غیب کی بات کی ، اب کیسے اس کا انکار کرتے ۔ جبکہ قرآن مجید میں بھی لکھا ہوا ہے اللہ تعالی نے آپ سے قرآن میں بلینک چیک لے لیا ہے ، وہ کیسے لیا؟

الم ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ
سورۃ البقرۃ 1

اب اس آیت میں یہ بتا ہی نہیں رہے کہ غیب میں ہے کیا ؟ جب ہم غیب پر ایمان لے آئے پھر بتایا ساڑھے تین کڑوڑ اللہ کی برادری ہے ۔ اب اس سے مکریں کیا ، ایمان تو پہلے ہی لے آئے تھے ۔اب اگر اس سے مکریں گے تو آپ ایمان کے درجے سے خارج ہو جائیں گے۔اب آپ یہ کہہ دیں کہ ہم غیب پر ایمان لاتے ہیں اور غیب میں جو کچھ موجود ہے اس پر ایمان نہیں لاتے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے آپ سے وعدے لے لئے ہیں ، غیب پر ایمان لانا ہے ۔ اب جب آپ کے سامنے غیب کی باتیں کی گئیں ، غیب کے راز بتائے گئے اور پھر آپ پھر جائیں تو پھر آپ مرتد ہو جائیں گے۔
پھر سرکار سیدنا امام مہدی گوھر شاہی ہم کو ان مقامات پر لے بھی گئے ، عالم غیب دیکھ بھی لیا ۔ جو علما کہتے ہیں کہ ہمیں قرآن کا علم ہے وہ آکر بتائیں کہ عرش ِ الہی کی شکل و صورت کیسی ہے ؟ عالم وحدت اور عالم احدیت کیسا ہے؟ چوتھا آسمان کس کو کہتے ہیں ، تخت عنکبوت کیا ہے ؟ مقام محمود پر کیا ہے ، عالم جبروت اور ملکوت کیسا ہے ؟ عالم لاہوت کیا ہے ؟ عالم ہاہویت کیا ہے ؟ ہم سے پوچھ لیں ہم بتا دیں گے بتانے کے بعد اگر یقین نہ آئے تو ہو سکتا ہے کہ ہم لے بھی جائیں ۔ جب ہم نے حق الیقین کی منزل پر فائز ہو کر مذکورہ حقائق کو مشاہدے کی آنکھ سے دیکھ لیا ، تجربے کے احساس پا لیا ، اب انکار نہیں کر سکتے ۔ اب اتنی بڑی جو نعمت ہے ہم صرف اپنے پاس رکھیں تو ہم سمجھیں گے کہ یہ بخل ہے۔بخیل نہیں ہونا چاہتے ۔ ہم اس زمانے میں رہتے رہے ہیں کہ جہاں دل والے علم کو چھپایا گیا ۔اور لوگ اسکا شکار ہوتے رہے ہیں ۔تو بہت سے لوگ ایسے گزر گئے جیسے گوتم بدھ تھا ۔ وہ بھی اس باطنی نظام کا شکار تھا ۔ وہ ازلی مومن تھا لیکن ظاہر میں کوئی علم دینے والا نہیں تھا ۔ لہذا اپنے تئیں خود جنگل میں جاکر بھوکا رہنا شروع ہو گیا ۔ بھوکا رہ رہ کر اس کا نفس پاک ہو گیا ۔لیکن ذکر قلب دینے والا کوئی تھا ہی نہیں ، ان کا نقصان ہو گیا ۔بے شمار لوگ ایسے گزرے ہیں ۔
اب جو لوگ صدیوں سے اس تعلیم سے، دل والے علم سے محروم ہوتے آئے تھے اس کو ختم کرنا مقصود تھا ۔ اور دوسرا یہ آخری زمانہ آ گیا ۔ اس زمانے کے بعد کوئی زمانہ نہیں ہے اب مزید جو سر بستہ راز ہیں اگر وہ افشاں نہیں کئیے گئے تو اللہ میاں کے لئے تو وہ بیکار ہیں ۔اس لئے جو ہم کئی صدیوں سے محرومی کا شکار بنتے آئے ہیں میں یہ چاہتا تھا کہ اس محرومی کا ازالہ ہو جائے ، محرومی کا ازالہ کیسے ہو ؟

’’جن کو اللہ تک نہ پہنچنے دیا تھا اُن کو اب رب الارباب تک پہنچا دو ، ازالہ ہو جائے گا‘‘

رب الارباب پر ایمان:

جو رب الارباب کی ہم بات کرتے ہیں تو ہم یہ کسی پر تھوپ نہیں رہے یہ ہم اپنا اعتقاد آپ سے شیئر کر رہے ہیں ۔ بتا رہے ہیں کہ بھئی ایسا بھی ہے ۔ہم نے سب لوگوں کو سناہی ہے بس یہ ساری معلومات اطلاع پر ہی ہے مشاہدہ نہیںکیا ہے۔اب جسطرح عیسائی کہتے ہیں کہ عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں بائبل میں ایسا لکھا ہوا ہے ۔ اب اللہ تعالی نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے کہ تمام آسمانی کتب پر ایمان لائیں ۔ اب اگر سب آسمانی کتب پر ایمان بھی لے آئیں گے تو سب کی باتیں مختلف ہے ۔ بائبل میں لکھا ہے کہ اللہ کے بیٹے ہیں اور قرآن میں لکھا ہے کہ اللہ کا کوئی بیٹا نہیں ہے ۔اور دونوں کتابیں اللہ کی طرف سے آئی ہیں ۔یہ خدائی مسائل ہیں ۔ اب آپ یہ کہیں کہ آسمانی کتب میں ردو بدل ہو گیا ہے ، توہم کہتے ہیں اس کا ثبوت ہے آپ کے پا س کے بائبل میں ردو بدل ہو گیا ہے ؟ یا پھر یہ دکھا دیں کہ یہ اصلی بائبل ہے اس میں نہیں ہے اور وہ نقلی والی ہے اس میں لکھاہوا ہے۔ہمارے جو مسلمان ہیں ان کے پاس عیسائیوں اور یہودیوں کو رد کرنے کا یہ سب سے بڑا حربہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ ان کی کتابوں میں بہت ردوبدل ہو گیا ہے ، یہ تو سب مشرک ہیں ، کافر ہیں ۔ اب آپ آسمانی کتب پر ایمان لائیں ہیں تو پھر بائبل کا احترام کیوں نہیں کرتے ؟ تو آپ کہیں گے کہ ہم اُس بائبل پر ایمان لاتے ہیں جس میں کوئی ردوبدل نہیں ہوا تھا۔اِس میں تو ردوبدل ہو گیا ہے اِس کو تھوڑی مانیں گے ہم ۔ اب اگر ان سے پوچھیں کہ بائبل اُسوقت اللہ کا کلام تھا جس وقت ردوبدل نہیں ہوا تھا ؟ تو وہ جواب دیں گے ہاں ، اسوقت تو تھا۔اچھا پھر پوچھیں قرآن شریف بھی اللہ کا کلام ہے ؟ تو کہیں گے ہاں قرآن بھی اللہ کا کلام ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھئی اُس اللہ کے کلام بائبل میں ردوبدل ہو گیا اور اللہ کے اِس کلام یعنی قرآن میں ردوبدل نہیں ہوا ؟ ابھی تک۔
مسلمانوں کے جو ذہن ہیں تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ باکس کی طرح ہو گئے ہیں نہ اندر کی کوئی چیز باہر جا رہی ہے اور نہ باہر کی کوئی چیز اندر آ رہی ہے ، وہ بس ایک جگہہ پر ٹک گئے ہیں ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ نا تو انہوں نے اللہ تک جانا ہے ، ناانہوں نے اپنے آپ کو پاک صاف کرنا ہے ۔ بس روایتی سا اسلام ہے لوگوں کو دکھانے کےلئے انہوں نے مسلمان ہونا ہے ، لوگوں کو دکھانے کےلئے شریعت پر عمل کرنا ہے ۔آپ ڈٹے رہیں اپنے عقیدے پر لیکن ایک وقت آئے گا جب ہم آپ کوبھی آپ کی مکروہ صورت دکھائیں گے ۔اور ہم نے یہ رب الارباب کے حوالے سے باتیں جو یہ ایک مجبوری تھی اس لئے کی ہے۔جب ہم کو یہ محسوس ہوا کہ لوگ اس تعلیم کی محرومی کا شکار بنے ہیں اور اب یہ راز ہم کو پتہ چل گیا ہے تو پھر ہم نے یہ فیصلہ کر لیا کہ راز اب ہم کھولیں گے ۔ اب یہ جو عالم غیب کا راز ہے یہ صرف بتانے کی حد تک نہیں ہے بلکہ پہنچانے کی حد تک ہے ۔

’’اسی لئے میں نے فیصلہ کیا کہ اب اس دنیا میں کسی اور کو اس خدائی نظام کا نشانہ نہیں بننے دوں گا۔ اسی لیے میں نے عالم غیب کے راز عریاں کر دیئے اورمجھے رب الارباب کی حمیت حاصل ہے ‘‘

مندرجہ بالا متن سیدی یونس الگوہر کے لائیو خطاب سے ماخوذ

 

 

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں