الکعبہ ليس بيت اللہ، بل الحجر الاسود ھو بيت اللہ

خانہ کعبہ يا مسجد الحرام نہيں بلکہ حجر الاسود ہي بيت اللہ ہے
حجر اسود ہي بيت اللہ يعني اللہ کا گھر ہے کيونکہ اس ميں ہي اللہ بصورت امام مہدي مقيم ہے

خانہ کعبہ میں طواف حجر اسود کے اطراف ہی ہوتا ہے۔طواف بھی حجر اسود سے شروع ہوکر حجر اسود پر ہی ختم ہوتا ہے۔
شفاعت بھی حجر اسود کا بوسہ لینے سے ہوتی ہے۔ خانہ کعبہ کی عمارت کا کوئی حصہ ایسا نہیں کہ جس کا بوسہ لینے سے شفاعت ہوجائے۔
سجدہ بھی حجر اسود کو ہی کیا جاتا ہے۔جب خانہ کعبہ کی عمارت کے کسی حصہ کو بوسہ لیکر شفاعت نہیں ہوسکتی تو کیا کعبہ کی دیواروں کو سجدہ کیا جاتا ہے؟ ہر گز نہیں! یہ سجدہ بھی حجر اسود کو ہی کیا جاتا ہے۔
اس مقدس پتھر کی عظمت اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ اس میں امام مہدی المنتظر کی تصویر موجود ہے،جو کہ اس کائنات کے آخری خلیفہ ہیں۔اس مقدس پتھر حجر اسود کو اول خلیفہ یعنی آدم علیہ السلام عالم ملکوت سے اپنے ہمراہ لائےتھے۔آدم علیہ السلام اس مقدس پتھر کی اسی وجہ سے تعظیم کرتے تھے۔ہر نبی ہر مرسل نے حجر اسود کی تعظیم کری۔خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی حجر اسود کو بوسہ دےکر گریہ زاری کرتے تھے۔ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اے عمر یہ مقام: حجر اسود ایسا ہے کہ یہاں آنسو نکل آتے ہیں۔
ایک موقع پر حضرت عمر بن خطاب نے حجر اسود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے حجر اسود، میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی نقصان، میں تجھے کبھی بھی بوسہ نہ لیتا اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے بوسہ نہ لیا ہوتا! قریب کھڑے مولی علی کرم اللہ نے فرمایا: اے عمر تو غلط کہتا ہے، میں خود حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ یہ پتھر حجر اسود فائدہ بھی پہنچا سکتا ہے اور نقصان بھی۔کیونکہ اس مقدس پتھر حجر اسود میں ٢ آنکھیں ٢ کان اور ایک زبان ہے جو عقیدت و محبت سے بوسہ لینے والوں کی یوم محشر میں شفاعت کرےگی اور گواہی دے گی۔
واضح ہو کہ ٢ آنکھوں ٢ کان اور ایک زبان سے مراد ایک چہرہ ہی ہے۔اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ حجر اسود میں ایک چہرہ موجود ہے جو کل انسانیت کی شفاعت کرتا ہے۔ظہور مہدی کے بعد یہ راز آشکارا ہوا کہ یہ چہرہ مقدس امام مہدی المنتظر سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کا چہرہ مقدس ہے۔

نمائندہ امام مہدی المنتظر سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی
محمد یونس الگوہر برطانیہ، مہدی فاونڈیشن انٹرنیشنل لندن